خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 836
خطبات طاہر جلد 15 836 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء نہیں تھی کیونکہ وہ سوچ جو زمانے اور Space ، زمان و مکان میں پھیلتی ہے اس سوچ کو زمان و مکان میں پھیلنے کے باوجود زندگی نہیں ملتی ۔ یہ اور نکتہ ہے جو آپ کو ضرور یاد رکھنا چاہئے۔ بڑے سے بڑا سائنس دان ، بڑے سے بڑا فلسفی جو زمان و مکان کے مسائل کو حل کرتا ہے محض اپنی حکمتوں سے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور اگر وہ خالق تک نہ پہنچ سکے تو عالم تک جو پہنچا ہے وہ تو ایک معمولی سی بات ہے ۔ اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ان کائنات کے رازوں اور ان کی وسعتوں کے مقابل پر جو خدا تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں۔ ہاں اگر عالم تک پہنچ جائے الــعـــالم یعنی خدا تعالیٰ تک، اگر خالق تک پہنچ جائے تو گویا تمام عالمین تک پہنچ گیا گویا تمام عالمین کو اس نے فتح کر لیا۔ یہ وہ مقام محمدی ہے جس کو قرآن کریم نے کئی پہلوؤں سے پیش فرمایا ہے ۔ آپ اس مرتبہ تک پہنچے جہاں خدا تعالیٰ اپنی ایسی صفات کے ساتھ آپ کو دکھائی دینے لگا کہ اس سے پہلے کبھی کسی آنکھ نے اس صفائی اور اس لطافت کے ساتھ اپنے خدا کی صفات کا نظارہ نہیں کیا تھا۔ ان صفات حسنہ کا مظہر بنے تو آپ کا دل عرش عظیم کہلایا اور یہ جو سفر ہے یہ سوچوں کا وہ سفر ہے جس کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت آپ کو انگلی پکڑ کر لے جا رہی ہے۔ پہلے کائنات پر غور کریں مگر اللہ کی محبت کے ساتھ ۔ اس کے بغیر یہ سارا غور بے کار ہو جائے گا۔ اللہ کا پیار دل میں ہو تو جتنا جتنا کائنات کے رازوں پر آپ کو دسترس ہوگی اتنا ہی خدا تعالیٰ کی محبت آپ کے دل پر غالب آتی چلی جائے گی ۔ یہ سوچوں کا سفر بالآخر وہاں تک پہنچاتا ہے جو آنحضرت می کی بعثت کا مقام ہے۔ چنانچہ اس کے معاً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا یعنی مومن کے دل سے پھر یہ آواز اٹھتی ہے۔ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِ يَا يُنَادِى لِلإِيْمَانِ یہ ایک حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہوا مضمون ہے۔ اس کی ترتیب پر غور کئے بغیر آپ اس کو سمجھ نہیں سکتے ۔ بصارت کے سوا انسان کو شنوائی نصیب نہیں ہو سکتی۔ اگر بصیرت ہے اور بصارت ہے تو پھر وہ سننے کی آواز آپ سنیں گے اور اس کا جواب دیں گے ۔ ورنہ ایک اندھا حقیقت میں جو خدا تعالیٰ کی کائنات کے رازوں کا نظارہ نہیں کر سکتا اس کو وہ آواز سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔ اس کو کہا جائے کہ دیکھو خدا نے نور پیدا کیا، خدا نے رنگ پیدا کیا، خدا نے توازن پیدا کیا وہ کہے گا مجھے تو کچھ پتا نہیں ۔ آپ اسے کہیں کہ خدا نے اتنی وسیع کا ئنات پیدا کی ۔ وہ یہ کہ سکتا ہے کہ مجھے تو اپنے جسم کے باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ قدم رکھتا ہوں تو پتا کوئی