خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 827
خطبات طاہر جلد 15 827 خطبه جمعه 25 اکتوبر 1996ء آپ ہوں لق و دق صحرا میں ہوں یا شاداب سبزہ زاروں اور آبشاروں کے ملک میں ہوں ہر جگہ آپ کو خالق کی صناعی کے شاہکار دکھائی دیں گے۔ایک چھوٹا سا خوبصورت سا پرندہ اچھل کر سامنے آیا اور میں حیرت سے اس کو دیکھنے لگا بہت ہی چھوٹا لیکن اتنے متوازن اس کے اعضاء اور ایسا ہلکا پھلکا بدن اور اس قدر اس کے رنگوں میں حسن ، اس کے رنگوں کا حسن شوخی نہیں رکھتا تھا جیسا کہ بعض ملکوں کے پرندوں کے رنگوں میں شوخی پائی جاتی ہے بلکہ اس مزاج کے ساتھ آہنگ تھا لیکن غور کرنے پر جب اس پر میں نے گہری نظر ڈالی تو میں حیران رہ گیا کہ اس موقع اور محل کے مطابق اس سے خوبصورت ،اس سے بہتر ، اس سے زیادہ موزوں پرندہ ان حالات میں کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان بھی تجویز نہیں کر سکتا تھا کوئی بڑے سے بڑا صناع بھی سوچ نہیں سکتا تھا اور عین ان حالات کے مطابق اس کی غذا وہاں مہیا تھی۔ان غاروں میں چھپے ہوئے یا ان بلوں میں گھسنے والے مختلف جانوروں کی غذا بھی وہاں یا مہی تھی اور وہ ساری جگہ جو پہلے سنسان دکھائی دے رہی تھی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی یوں لگا جیسے اچانک جاگ اٹھی ہے، ہر طرف اللہ تعالیٰ کے حسن کی گواہیاں دینے والے پیدا ہو گئے۔اس مضمون کو میں نے ایک دفعہ پھر اس طرح یاد کیا کہ انگلستان کے ایک قدرتی مناظر کی تصویریں لینے والے اور ان پر غور کرنے والے اور بہت خوبصورت انداز میں Mr۔David Attenborough ان کو پیش کرنے والے ہیں کہ ان کی کتب جب بھی میں پڑھتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان کو ایمان نصیب ہوتا تو یقیناً اس آیت کے مصداق یہ بھی بن جاتے جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔وہ آپ کو جنگلوں ، صحراؤں میں ، دلدلوں میں لے جاتے ہیں ایسی جگہوں پر جہاں بظاہر زندگی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے پھر وہ مٹی کھودتے ہیں پھر وہ ریت کریدتے ہیں دلدلوں میں میٹھی بھرتے ہیں دلدلوں سے اور ہاتھ نکال کے دکھاتے ہیں تو وہاں عجیب و غریب قسم کی مخلوقات جوان حالات کے لئے انتہائی موزوں ہے وہ اپنے کاروبار میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔پھر اس کی زندگی کے صبح و شام پر وہ روشنی ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسا سائنس دان جس کو قدرت کے ان حیرت انگیز نظاروں پر خدا تعالیٰ نے ایسی دسترس بخشی ہو یعنی اس کا ذہن رسا ان کی گہرائیوں تک اتر تا ہو وہ ایمان سے کیسے محروم ہے۔ایک دفعہ میں نے اپنے ایک ایسے دوست کو جو میرا خیال تھا کہ Mr۔David Attenborough کو جانتے ہوں گے ان سے میں نے