خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد 15 820 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء ہے، تمہیں اپنی وراثت سے بھی محروم کر دیا ہے۔تم مرو گے تو یہ جائیداد جو ہے اس کا دسواں حصہ وہ ت لے جائے گی۔وہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ایسا بد اثر ان پر پڑا کہ انہوں نے وصیتیں بھی ادا نہیں کیں۔وہ ساری زندگی قربانی کرتار ہا مگر غیر موصی کے طور پر دفن ہوا۔تو گر دو پیش کو دیکھنا تو بعد کی بات ہے اپنے گھر کو دیکھنا سب سے اول ہے اور یہاں جبر نہیں چل سکتا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ فرضی باتیں ہیں کہ جبر کے ذریعے آپ خاندان کی اصلاح کر سکتے ہیں اس کو غلام بنا سکتے ہیں۔اپنی زندگی میں جب تک آپ میں طاقت ہے وہ جیسے کوئی ناک میں نکیل ڈالی ہو اور پیچھے پیچھے چلا رہے ہیں اس کو ، پیچھے تو چل پڑیں گے لیکن نفرت کے ساتھ ، ان ارادوں کے ساتھ کہ اب آنکھیں بند کرو پھر دیکھنا ہم کیا کرتے ہیں اور یہی ہوا کہ کثرت کے ساتھ بہت ہی مخلص خاندان جن کے سر براہ مخلص تھے جو فدائی تھے اپنی زندگی میں جب آواز آتی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے یا بعد میں خلفاء کی طرف سے جو حاضر ہوتا تھا پیش کر دیا کرتے تھے لیکن بیویوں سے غافل رہ گئے اور اولا دتو پھر بیویوں کے پیچھے چلی کیونکہ یہ دستور ہے کہ پانی نیچے کی طرف بہتا ہے۔بیویاں جس زندگی کی طرف ان کو بلاتی تھیں وہ آسانی کی زندگی تھی ، آرام کی زندگی تھی۔باپ جس زندگی کی طرف بلاتا تھا وہ چڑھائی تھی ، مشقت اور محنت کی زندگی تھی اور اگر حکمت سے کام لیتا تو بچوں اور بیویوں کو سمجھا کر ، پیار اور محبت کے ساتھ لے کر چلتا تو کبھی وہ اولا دیں ضائع نہیں ہو سکتی تھیں اور انہی علاقوں میں ایسی مثالیں ہیں جن علاقوں کی بات میں کر رہا ہوں۔ان میں تیسری نسل، چوتھی نسل بھی آچکی ہے اور ہر نسل فدائیوں کی پیدا ہورہی ہے کیونکہ بلا استثناءان خاندانوں میں خاوندوں نے اپنی بیویوں کو قائل کیا اور عبادتوں میں اپنے ساتھ شریک کیا، جماعت اور مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت ان کو گھول گھول کے پلائی یہاں تک کہ وہ دونوں فدائی بن گئے اور ان کی اولاد کبھی ضائع نہیں کی گئی۔ناممکن ہے کہ ایسے لوگوں کی اولا دضائع ہو جائے سوائے اس کے کہ بعض دفعہ بدبختی سے ایسے ماحول میں ایک بچہ پڑ جاتا ہے جس پہ ماں باپ کی نظر نہیں ہوتی اور استثناء کے طور پر وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔مگر میں نے تو نیک ماں باپ جہاں دونوں برابر کے شریک ہوں نصیحت میں اور تربیت میں ان کی اولا دوں کو تو ضائع ہونے کے بعد بھی واپس آتے دیکھا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کا بھرم رکھتا ہے۔