خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 816
816 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء خطبات طاہر جلد 15 کو تو ایک سنسناہٹ سی پیدا ہو جائے گی ، گونج سی پیدا ہوگی ، ہاتھ رکھ کے بند کر دیں تو گونج پھر بھی آرہی ہوگی ، آپ حیرت سے دیکھیں گے تو ساتھ والا ٹیونگ فور جس کو آپ کا ہاتھ لگا ہی نہیں پاس سے بھی نہیں گزری انگلی ، وہ بجنے لگ گیا ہے۔تو یہ قوت قدسیہ ہے جو پاک وجودوں کو عطا ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے قرب میں وہی لہریں ان کی روحوں میں ، ان کے اجسام میں ، ان کے دلوں میں، ان کے دماغوں میں جاری کر دیتے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ گواہی دی ہے کہ میں بھی تیرہ سو حضور سر سال کے فاصلے پر زمینی لحاظ سے، جغرافیائی لحاظ سے اتنا دور ہوتے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ کی قوت قدسیہ سے زندہ ہوا ہوں کیسی عظیم گواہی ہے، حیرت انگیز ، کہ وہ قوت قدسیہ جس پہ ہم تعجب کر رہے تھے کہ ساتھیوں کے بغیر بتائے کیسے نیک اور پاک کر دیا۔آج ایک انسان، غلام پیدا کرتا ہے وہ دعوی کرتا ہے خدا کی قسمیں کھا کے کہتا ہے میں حضرت محمد رسول اللہ علیہ کی وجہ سے زندہ ہوں کسی دلیل سے زندہ نہیں ہوا۔آپ کی قوت قدسیہ نے براہ راست مجھے زندہ کر دیا ہے اور وہ ٹیونگ فور جو مدینے میں بج رہا تھا اور مرنقش تھا بظاہر دنیا سے رخصت ہو گیا مگر آج بھی اس کا ارتعاش لوگوں کے دلوں کو جو اس سے ملتے جلتے ہوں جو ہم مزاج ہوں جو اپنا سر اس کے سر تسلیم کے طور پر خم کر دیں ان کے اندر وہی ارتعاش پیدا کر دیتا ہے، تو قوت قدسیہ ہے جو لازم ہے اور یہ قوت قدسیہ قرب الہی سے نصیب ہوتی ہے اس کے بغیر ممکن نہیں۔پس قرآن کریم نے جو دعوت الی اللہ کا فارمولا بیان کیا ہے بالکل حقیقی اور سائنٹیفک ہے کہ تم کر وضرور لیکن اپنے وجود میں وہ تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی جو قرب الہی کی نشان دہی کریں۔جو تمہارے عمل کو صالح بنائے یعنی اللہ کے قریب کر دے پھر تمہاری آواز میں ایک طاقت پیدا ہو جائے گی۔پھر تو بعض ایسے لوگ ہیں جو بولے بغیر بھی اصلاح کر دیا کرتے ہیں۔ان کے پاس آکر بیٹھنے والے متاثر ہوتے ہیں اور عام دنیا میں آج کل بھی احمدیوں میں اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔بعض لکھتے ہیں کہ ہم دفتر کی مجبوریوں کی وجہ سے تبلیغ نہیں کرتے تھے کیونکہ قانون ہے اور ہمارے معاہدے ہیں لیکن ہمارے ساتھ بیٹھنے والے بعض لوگ وہ دن بدن ہمارے قریب آنے شروع ہوئے جیسے ان کو محبت ہوگئی ہو اور آخر ایک دن بول پڑے کہ تم ہو کیا چیز ، دنیا سے تو مختلف ہو۔یہی ملک ہے ہمارا ملک بھی اور دوسروں کا بھی یہاں تو ایسے نمونے نہیں نظر آ رہے جیسے تم ہو۔نہ تمہیں رشوت سے دلچپسی ، نہ تمہیں اور کسی