خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 73
خطبات طاہر جلد 15 73 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء تو رمضان کا مہینہ تمہیں بچالے جائے گا اور تمہارا پورا سال بچادے گا۔پس تم نے رمضان کے مہینے میں جو رستہ اختیار کیا ہے وہ پورے سال تک کے لئے رمضان سے طاقت پائے گا اور سیدھا رہے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی گولی بندوق کی نالی سے نکلتی ہے اگر چھوٹی نالی ہو تو بہت جلدی وہ رستے سے بھٹک جاتی ہے اور جتنی لمبی نالی ہو اتنی زیادہ دیر تک سیدھی نشانے کی طرف حرکت کرتی رہتی ہے۔پس اسی لئے لمبی نالیوں سے دور کے نشانے لئے جاتے ہیں، چھوٹی نالیوں سے نزدیک کے نشانے لئے جاتے ہیں۔پس تمہیں دن کا جو خدا تعالیٰ نے رمضان رکھا۔یہ ایک ایسی نالی ہے جس میں اگر آپ سیدھے رہ کر گزریں اور رمضان کے حقوق ادا کرتے ہوئے گزریں تو سارا سال آپ کو سیدھا رکھے گی یہاں تک کہ اگلا رمضان آجائے گا اور پھر اگلے رمضان میں ایک اور نالی میں پھر دوبارہ داخل ہوں گے پھر آپ کو سیدھا کیا جائے گا، آپ کی کجیاں صاف کی جائیں گی تو ساری زندگی بچتی ہے اصل میں۔ایک رمضان کو آپ سلامتی سے گزار لیں تو گویا اگلا سال سلامتی سے گزر گیا اور جب ہر دور مضان کے درمیان سال سلامتی سے گزرے تو دوسرے معنوں میں ساری زندگی سلامتی سے گزر جائے گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے ابن ماجہ سے لی گئی ہے۔فرمایا: ہر چیز کو پاک کرنے کے لئے ایک زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ اور پاکیزگی کا ذریعہ روزہ ہے۔“ (سنن ابن ماجه کتاب الصيام باب في الصوم زكاة الجسد) زکوۃ اموال کو پاک کرنے کے لئے بھی دی جاتی ہے اور اعمال کی نشو و نما کے لئے بھی دی جاتی ہے دونوں معنی بیک وقت اس میں موجود ہیں اور تزکیہ نفس کے لئے بھی دی جاتی ہے۔پس آپ نے فرمایا کہ جسم کو اگر پورے طور پر اس کے ہر پہلو سے دیکھا جائے تو روزہ ایسی چیز ہے جو سارے جسم کی زکوۃ بن جاتا ہے اور اس کے متعلق تشریح ایک اور حدیث میں یوں بھی آئی ہے کہ صوموا تصحو اگر تم روزے رکھو گے تو صحت مند رہو گے۔(المعجم الأوسط للطبراني ، باب الميم ، من بقية من اول اسمه۔میم ، موسى بن ذكريا التسترى) پس صرف روحانی زکوۃ ہی نہیں بدنی زکوۃ بھی ہے اور رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ روزے کے نتیجہ میں صحت بہتر ہوتی ہے خراب نہیں ہوا کرتی بشر طیکہ بیماری کی شرط کو