خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 783
خطبات طاہر جلد 15 783 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء نے کہی تھی۔پس اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کی مخلصین کی مدد بھی فرماتا ہے اور جس جذبہ سے آپ نے صلى الله رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا تھا مجھے یقین ہے آسمان سے وہ طاقت اتری ہے جس نے اس کے دل پر رعب ڈالا ہے اور ساری مجلس اس بات پر متفق تھی کہ یہی وہ تقریر ہے جو سب سے اعلیٰ ،سب سے عمدہ تھی تو کامیابی کی اس لوٹ پر ، اس آخری مہر پر آپ کا وصال ہوا ہے۔جملہ فرائض کو جب بھی ، جو بھی سپرد کئے گئے بڑی کامیابی سے سرانجام دیا اور ان فرائض کی سرانجام دہی کے بعد ہمیشہ جب لوٹتے تھے تو بلا شبہ یہ کہا کرتے تھے کہ اس میں میری قابلیت کا کوئی دخل نہیں۔میں نے نشان پورے ہوتے دیکھے ہیں اللہ کی مدداتر تی دیکھی ہے اور چونکہ دین کا کام تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو قبول فرما لیا۔یہی ان کا طریق بیان تھا جو امریکہ سے واپس آکر تھا اور جیسا کہ واقعات ثابت کرتے ہیں ، واقعتہ خدا کی طرف سے نصرت اترے بغیر اتنی بڑی تبدیلی نہیں ہوسکتی کہ اسرائیل کا نمائندہ یہودی مسلمانوں کے مقابل پر رسول اللہ ﷺ کے متعلق بات کہہ کر معافیاں مانگے ، ساری مجلس میں معافی مانگے اور پھر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میں واقعہ مطمئن ہو گیا ہوں کہ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں مجلس کے اختتام کے وقت فوراً اٹھا ہے اور تیزی کے ساتھ آفتاب خان صاحب کی طرف لپکا، مصافحہ کیا اور کہا میں پھر معافی مانگتا ہوں، مجھے معاف کر دیں۔تو یہ رعب جو نصرت کا ہے یہ خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں کو ہی عطا کرتا ہے،ان کے اخلاص کی قدر کے ساتھ عطا کرتا ہے۔پس بہت نیک انجام کو پہنچے ہیں اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے اور کام تو اس نے بنانے ہی بنانے ہیں مگر خدا کرے ان کی اولاد میں پھر ایسے اور بہت سے اٹھیں اور ہمیشہ اٹھتے رہیں جو ان کی یادوں کو اپنے نیک اعمال سے زندہ کیا کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی نیکیوں کو اپنانے اور زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔حقیقةً اِنَّا لِلہ ہمارا بھائی اس دنیا سے چل دیا اور اس دنیا میں چلا گیا جو دائمی ہے جہاں خدا تعالیٰ کی جبروت اور جلال اور مالکیت جلوہ گر ہوگی۔اللہ اس وقت آپ کو اپنی رحمت کے سائے تلے رکھے۔نماز جنازہ کے تعلق میں کچھ اور بھی نام ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ دینا چاہتا ہوں ان کو بھی نماز جنازہ میں یادرکھیں۔مبارک محمود صاحب پانی پتی لاہور جماعت کے مخلص ، فعال کارکن جن کے ساتھ بچپن ہی سے مجھے خدام الاحمدیہ کے سلسلہ میں کام کرنے کا موقع ملا اور ہمیشہ بہت ہی اخلاص