خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 782

خطبات طاہر جلد 15 782 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء دودو مضمون پر کافی عبور ہے۔انہوں نے کہا ہاں میں گلف کرائسز بھی پڑھ چکا ہوں سنا بھی ہوا ہے اور بھی آپ کو جانتا ہوں ، آپ کے خیالات کو ان موضوعات پر تو میں تیاری کرلوں گا فکر نہیں۔جانے سے پہلے نماز کے وقت میرے دفتر تک چھوڑنے گئے تو کہا کہ مجھے ابھی تسلی نہیں ہو رہی۔میرا دل چاہتا ہے آپ مجھے دوبارہ خود بتائیں کہ کیا کرنا چاہئے۔اس پر جو میں نے ان کو بات بتائی تو چمک اٹھے۔انہوں نے کہا یہ میرے دماغ میں نہیں تھی پہلے۔اس سے تو سارا مضمون کا رخ ہی بدل گیا ہے۔اب میں اسی طرح پیش کروں گا اور واپس آکر اتنا خوش تھے ، کہتے تھے ساری مجلس میں اسرائیل کے نمائندے بھی تھے ، مقامی یہودی بھی مسلمانوں کے ممالک کے نمائندے ہر قسم کے مگر سب سے زیادہ میری تقریر کو سراہا گیا اور لوگ بعد میں دوڑ دوڑ کر آ کے مجھ سے ملتے رہے اور گرم جوشی سے در ہاتھوں سے مصافحے کئے اور اسرائیل کے نمائندے نے معذرت کی کھڑے ہو کر کہ مجھ سے جو اپنی تقریر میں گستاخانہ باتیں ہوگئی ہیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق یا دوسرے میں معذرت کرتا ہوں میری غلطی تھی اور اس مقرر نے آفتاب خان نے مجھے درست کیا ہے اور بعد میں پھر بھری مجلس میں وہ معافی مانگنے کے لئے پھر آیا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی فراست تھی۔جو بات سمجھتے تھے اسے پیش کرنے کا سلیقہ جانتے تھے ، بہترین انگریزی بولتے تھے اس پر عبور تھا مگر ساتھ انکسار تھا اور واپس آکر خوشی سے جس طرح انسان ایک چیز میں ابلتے ہوئے بلبلے پیدا ہوتے ہیں اس طرح آپ ہنتے جاتے تھے اور خوش تھے، کہتے خدا نے دیکھو کیسا عمدہ موقع دیا۔اگر میں نہ جاتا اور جس رنگ میں آپ نے اسرائیل کی بات چھیڑنے کا کہا تھا نہ چھیڑتا تو اس گستاخ کو کسی نے درست نہیں کرنا تھا اور وہ ایک ایسی بد تمیزی کی بات کر گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں سب پر یہ تاثر پڑتا تھا کہ نعوذباللہ من ذالک، رسول اللہ یہود کے معاملے میں ظالم تھے لیکن جس رنگ میں میں نے بات کی اور کھڑے ہو کر احتجاج کا حق استعمال کیا اور کھول کر ان کو بتایا کہ بالکل جھوٹ ہے۔کہتے صرف ایک بات میں حیران ہوں کہ ہمیں تو تجربہ تھا مولویوں کا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسرائیلی یہودی، اسرائیل کا نمائندہ اتنا جلدی اپنا موقف بدل لے گا۔یہ بھی یہ کہتے ہیں میرے لئے نیا تجربہ تھا۔میرے دلائل کوسنا اور سر تسلیم خم کیا ، اٹھ کر سب کے سامنے معذرت کی ، اپنی غلطی پر معافی مانگی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صلى الله خلاف گستاخی کر کے دل آزاری کا کام کیا ہے اور نا جائز کام کیا ہے۔یہ بات درست نہیں ہے جو میں