خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 774 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 774

خطبات طاہر جلد 15 774 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء پس جب ہم کہتے ہیں وہ زندہ رہے گا یا ہمیشہ زندہ رہے تو مراد یہی ہوتی ہے کہ اپنے پیچھے ایسے وجود چھوڑ جائے جن میں ہو کر پھر وہ زندہ رہے اور ایک سے زیادہ ہوتے چلے جائیں ، بجائے کم ہونے کے۔یہ تصویر دنیا میں بھی پایا جاتا ہے مگر ایک بھیانک صورت میں۔سچی حقیقی صورت میں جو بھیا نک نہیں بلکہ بہت ہی دلربا ہے وہ اسلام ہی میں پایا جاتا ہے یہ تصور۔کہانیوں میں ذکر ملتا ہے ایک Hydra-Headed جن کا، ایک ایسے بھوت کا جس کے ایک سے زیادہ سر تھے اور جتنے سر کاٹتے تھے اتنے ہی زیادہ اگتے چلے جاتے تھے اور ناممکن تھا کہ اس کوختم کیا جاسکے۔یہ تصور پرانے زمانے کی کہانیوں میں ملتا ہے مگر ایک حقیقت پر مبنی ہے محض ایک وہم نہیں محض ایک کہانی نہیں۔Hydra ایک ایسا جانور ہے جو واقعہ یہ صفات رکھتا ہے۔اس کے سرکو اگر کاٹا جائے تو وہ کٹا ہوا سر اپنے نیچے سے ایک اور وجود پیدا کر کے سارا جسم مکمل کر لیتا ہے اور کٹا ہوا جسم ایک سر نکال کر ایک اور وجود مکمل کر لیتا ہے۔پس عجیب جانور ہے کہ جس کو کاٹ کر ختم نہیں کیا جاسکتا، جسم اپنا سر پیدا کر لے گا ،سر اپنا جسم پیدا کر لے گا۔پس اس قسم کے واقعات پرانے زمانوں میں سائنس دانوں نے مشاہدہ کئے ہیں۔اس زمانے کے سائنس دان بھی بہت غور کرنے والے لوگ تھے ، بڑے بڑے فلسفی تھے جنہوں نے Hydra کا یہ حال دیکھا ہو گا اس سے یہ کہانیاں بن گئیں۔کوئی جن بھوت ہے جس کو جتنا کاٹو وہ اور بڑھتا چلا جاتا ہے۔مگر اسلام میں جو یہ تصور ہے یہ نیکی کی ترویج سے تعلق رکھتا ہے اور اس مضمون سے تعلق رکھتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایک نہیں ہے اور اللہ قائم رہتا ہے اور اگر اللہ قائم رہے تو اس سے تعلق رکھنے والے بھی قائم رہا کرتے ہیں ان معنوں میں۔پس اگر خدا سے تعلق جوڑے رکھو گے تو تم نیک معنوں میں Hydra بن جاؤ گے جس کا ایک سر جدا ہو تو دوسرا سر بھی اگ۔آتا ہے اور ایک اور جسم بھی نکل آتا ہے اس سر کے نیچے سے، تو وہ بڑھتا ہے، کم نہیں ہوسکتا۔پس وہ لوگ جو اپنے بڑوں ، بزرگوں ، نیکیوں کی وفات کے اوپر یہ عزم لے کر زندہ رہتے ہیں کہ ہم نے ان نیکیوں کو نہیں مرنے دینا۔جس خدا نے ان کے وجود کو یہ نیکیاں بخشی تھیں ہم اسی سے اپنا تعلق بڑھائیں گے اور اس تعلق کے نتیجہ میں ہمارے اندر کمزوری پیدا ہونے کی بجائے پہلے سے بڑھ کر تقویت آئے گی۔جو قو میں ، جو روحانی، مذہبی قو میں اس راز کو سمجھ لیں ان کے اوپر کبھی موت نہیں آسکتی۔ناممکن ہے کہ وہ ختم ہو جائیں ، ہمیشہ بڑھتی چلی جائیں گی لیکن بدنصیبی ہے کہ مذہبی قوموں میں