خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 773 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 773

خطبات طاہر جلد 15 773 خطبہ جمعہ 4/اکتوبر 1996ء۔نگاہ جانی چاہئے اور یہ ایک عزم صمیم پیدا ہونا چاہئے کہ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا یہ نہ ہو کہ مجھے ایسے وقت میں آواز آجائے کہ جب بے خبری کی حالت میں، میں اپنی حالت سے بے خبر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاؤں اور اس کوشش میں مصروف نہ ہوں کہ میرے گناہوں کے داغ مٹ رہے ہوں۔اس جد و جہد میں میری جان نہ جائے ، نعوذ باللہ من ذالک کہ جس سے پتا چلتا ہو کہ میں خدا کی راہ میں سرک سرک کے بھی زور سے طاقت کے ساتھ، کبھی کمزوری کے ساتھ ،مگر آگے بڑھ رہا ہوں مسلسل آگے بڑھ رہا ہوں۔یہ وہ انسان کی سوچ ہے جو اس کی آئندہ زندگی کی ضمانت ہے ،اس بات کی ضمانت ہے کہ جس حال پہ بھی اس پر موت آئے گی وہ خدا کی رضا پر مرے گا۔پس اس پہلو سے آفتاب احمد خان صاحب کے وصال کے نتیجہ میں جو ہمارے اندر خلاء پیدا ہوا ہے وہ خلاء اسی طرح بھر سکتا ہے کہ آپ کے نقش قدم پر چلنے والے اور آپ کی وفات سے سبق لینے والے بکثرت پیدا ہوں اور انگلستان کے چونکہ امیر تھے اور بہت ہی شاندار امارت رہی ، بہت ہی کامیاب رہی ہے اس لئے انگلستان کی جماعت میری اولین مخاطب ہے۔یہ تو ہمیں وہم پیدا ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کے چلے جانے سے خدا کے کام بند ہو سکتے ہیں ، ناممکن ہے۔ہاں کسی کے چلے جانے سے اس سے نقوش قدم پر چلنے والے اگر نئے پیدا ہو جائیں تو وہ اس کا وصال کام آگے بڑھانے والا تو بنتا ہے، کام کو پیچھے دھکیلنے والا نہیں بنتا۔اور یہی وہ شعر ہے جو ایک عربی شاعر نے کہا جو خود زندہ جاوید ہے: اذا سید منا خلا قام سید قؤول لـمــا قــال الـكــرام فعول (السموأل بن غريض) ،، ہم تو ایک زندہ قوم ہیں ہم میں کسی بڑے آدمی کے مرنے سے قوم نہیں مرا کرتی۔ہمارا تو یہ حال ہے کہ اذا سـیـد مـنــاخـلا ، جب ایک سردار، عظیم الشان خوبیوں کا مالک ہم میں سے نکل جاتا ہے گزر جاتا ہے قام سید ایک اور سردار اٹھ کھڑا ہوتا ہے قؤول لما قال الكرام جو معزز لوگ کہا کرتے تھے ویسی ہی باتیں وہ بھی کہتا ہے فعول اور اسی طرح عمل کرنے والا ہے۔محض زبانی جمع خرچ پر بات کو نہیں چھوڑتا بلکہ اپنے افعال ، اپنے نیک اعمال سے ثابت کرتا ہے کہ وہ ان نیکوں میں اسی طرح ایک زندہ وجود ہے جس طرح مرنے والا اس کی ذات میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔