خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 747 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 747

خطبات طاہر جلد 15 747 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء ہے۔ کہتے ہیں میں نے اپنے تجربے سے مردم شناس ضرور ہوں اور میرا یہ تجربہ ہے کہ بے ایمان لوگ کاغذ بڑے بھر کے لاتے ہیں اور کاغذوں کے منہ پکے کر لیتے ہیں اور جتنے مرضی پکے کاغذات ہوں دھوکہ دے جاتے ہیں لیکن اگر آدمی دیانتدار ہو تو وہ دھو کہ نہیں دے گا۔ میں نے تو آپ کو دیکھا مجھے یہ پتا لگ گیا کہ ہے دیانتدار اور اس لئے میں نے آپ سے کاغذ بھی نہیں مانگے ، فیکٹری کے کاغذ نہیں مانگے کہ رکھواؤ اس کے مقابل پر۔ مجھے پتا تھا اور میں اپنے اس فیصلے پر ایسا اعتماد رکھتا ہوں کہ اس اعتماد مجھے رکھتا کی خاطر مجھے پتا تھا کبھی غلطی نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔ مسلسل اس بینک نے نہیںہوگی اور ہمیں بغیر سود کے قرضہ دیا ہے اور مسلسل ہمارے اوپر پورا اعتماد کیا اگر ہمارا منافع کم ہوا تو ہم نے کچھ کم نے۔ تحفہ دیا، زیادہ ہوا تو زیادہ خوشی سے قبول کیا مگر سودی کاروبار پھر نہیں ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ کفیل بن جاتا ہے، رستے نکال لیتا ہے۔ اس لئے یہ بہانے نہ بناؤ کہ ہم بددیانتی پر مجبور ہیں ۔ ہر احمدی مسلمان ۔ ہرام کو بد دیانتی کے خلاف مستعد ہو جانا چاہئے ۔ جو روزمرہ کے اپنے اموال میں بد دیانتی نہیں کرے گا اس کے بھائی کو بھی پھر اس سے خطرہ نہیں ہوگا۔ آج جو بعض شکایتیں آتی ہیں اور بڑی بھاری تعداد شکایتوں کی وہ ہے جو مالی لین دین کی خرابی سے تعلق رکھتی ہے ان سے جماعت کو نجات ملے گی اور اگر ایک انسان اپنے ذاتی معاملات میں جو عام تجارتی کاروبار ہیں ان میں دیانتداری کے لئے محنت کرتا ہے تو نفسیاتی لحاظ سے اس کے لئے ناممکن ہے کہ حیلے تراش کر کسی بھائی کے پیسے پر نظر رکھ کر اسے دھو کہ دینے کی کوشش کرے۔ تو اس اعلیٰ معیار تقویٰ پر قائم ہوں تو جماعت کو بہت سے جھمیلوں سے نجات ملے گی اور ایسی جماعت جو خدا کی خاطر تقویٰ پر اور دیانت پر قائم ہو اس کے اموال میں لازماً برکت دی جاتی ہے۔ آگے جو بڑے بڑے کام در پیش ہیں ان کے لئے آپ حیران ہو جائیں گے کس طرح خدا تعالیٰ غیب سے، اپنے فضل سے روپے مہیا کرتا چلا جائے گا جیسا کہ اب کر بھی رہا ہے مگر اپنی دیانت کی حفاظت کرنی ہوگی ۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ہوگی عطافرما۔ کی ۔ باقی اقتباس اور باقی حوالے انشاء اللہ اگلے جمعے میں پیش کروں گا۔ انشاء اللہ