خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد 15 746 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء ہدایت ہماری یہ تھی کہ ایک دمڑی بھی حکومت کی یا ملکی دولت کی ہم اپنے لئے نہیں لیں گے۔صرف ہمیں امن سے کام کرنے دیں اور خدا نے برکت ڈالی۔سود سے کہتے ہیں، سود سے کیسے بچو گے ؟ یہ ٹھیک ہے کہ بسا اوقات انسان نہیں بچ سکتا لیکن اگر ارادہ ہو، نیت ہو اور اخلاص ہو اور دعا ہو تو بیچ بھی سکتا ہے۔ہمارے ایک کاروبار میں مسلم کمرشل بینک سے واسطہ تھا اور کاٹن کے یعنی اس روئی کے کاروبار میں بہت بڑے قرضے لازماً اٹھانے پڑتے ہیں اور ان قرضوں کے بغیر وہ کاروبار چل ہی نہیں سکتے کیونکہ عام جو کارخانے دار ہیں یا جینگ فیکٹریوں کے مالک ہیں ان کے پاس اتنا سر ما یہ تو ہوتا ہی نہیں کہ وہ بڑی قیمت دے کر وہ زمینداروں کو ان کی کاٹن کی قیمت پہلے ادا کر دیں۔بہت سی مجبوریاں ہیں ، قرضے لینے پڑتے ہیں۔اب میرے دل پہ یہ بڑا گراں تھا اور میں نے دعا بھی کی۔میں نے کہا اللہ میاں جماعت احمدیہ کی فیکٹری ہے ہم نمونہ بننا چاہتے ہیں ہمیں بچا اس مصیبت سے اور ایک دوست کے تعارف سے مسلم کمرشل بینک کے جو جنرل مینجر بلکہ پریذیڈنٹ تھے ان سے ملا اور ان سے میں نے کہا کہ دیکھیں اتنے لاکھ قرضہ آپ سے لینا چاہتے ہیں لیکن سود نہیں دینا۔اب وہ بہت ذہین آدمی تھے اور بڑے حوصلے والے انسان تھے۔اب خدا نے واسطہ بھی ایسے شخص سے ڈالا جس میں یہ طاقت تھی اس بات کو سنے اور سمجھنے کی۔تو تھوڑا سا تعجب ہوا۔وہ کہتے ہیں اچھا اب بتائیں کیا بات ہے۔میں نے کہا ہمارا دین ہمیں اجازت نہیں دیتا اور تجارت مجبور کرتی ہے لیکن ایک بات ہے کہ آپ کمرشل ادارے ہیں ، آپ کا کاروبار ہی منافع پر ہے اس کا مجھے احساس ہے۔مگر یہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہمیں ہمیشہ منافع ہوتا ہے اگر منافع ہوا تو ہم آپ کو جتنا سور دیتے ہیں اس سے زیادہ پیسہ تحفہ دیں گے ،شرط نہیں ہے، کوئی اس کا تناسب مقرر نہیں کرنا۔تو مجھے دیکھ کے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے منظور ہے اور جس بینک کے آفیسر کی طرف انہوں نے حوالہ دیا ان سے نچلا وہ بھی بہت بڑا اونچے مقام کا افسر تھاوہ حیران رہ گیا۔اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔میں نے کہا ہو گیا تم جاکے پوچھو اور اس کے بعد پھر میں بھی ان کی موجودگی میں الگ ان سے ملا اور ان سے میں نے بھی یہی سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کام تو آپ نے کر دیا ہے۔اتنا بڑا فیصلہ جو آپ کے سارے حصہ داروں کے سامنے بہت ہی ایک نا قابل قبول حالت پیش کرتا ہے۔اس نے کہا بات یہ ہے، میں ابھی بتا تا ہوں میرے فیصلے میں راز کیا