خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 745

خطبات طاہر جلد 15 745 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء ہو جائے گی اور جو قو میں بددیانت ہو جائیں وہ ایک دوسرے کا خون پی رہی ہوتی ہیں اور دنیا سے ان کی تجارتیں بے سود بے معنی ہو کے رہ جاتی ہیں اور دنیا ان کو دھتکار دیتی ہے۔اس لئے دن بدن ان کی روپے کی قیمتیں گرتی ہیں ان کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں ان کی منڈیاں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خوشحال ہیں کیونکہ ہر بے ایمان معاشرے میں وقتی طور پر خاندانوں کو خوشحالی ملتی ہے اور حکومتیں بدحال ہو جاتی ہیں کیونکہ ٹیکس نہیں جاتا ان کو۔اب ٹیکس کی بات وہاں چلی تھی اسی سوال جواب میں۔میں نے ان سے کہا تھا کہ یہ میں جانتا ہوں کہ اگر انسان کتنی بھی دیانتداری اختیار کر لے بعض ملکوں میں جب ٹیکس کی جگہ آئے گی تو وہاں ٹیکس والے مجبور کر دیں گے بد دیانتی پر اور بددیانتی پر مجبور کریں گے اور ایسے حالات پیدا کر دیں گے کہ یا وہ اپنی جائز آمد سے بہت بڑھ کر ٹیکس ادا کرے اور تجارت کا ایک دم صفایا ہوتا چلا جائے یا پھر بددیانتی میں ملوث ہو جائے۔میں نے کہا اس سے بھی بچنے کی راہ ہے کیونکہ ایسے لوگ جانتے ہیں کہ جب وہ ایک ٹیکس والے کو پیسے دیتے ہیں تو محض اس لئے نہیں دیتے کہ ان کا جائز ٹیکس لگے وہ پھر اپنا جائز ٹیکس بھی بچاتے ہیں اور ناجائز فائدے اور بھی حاصل کر لیتے ہیں۔تو انسان اگر تقویٰ سے بچنا چاہے تو بچ سکتا ہے۔ان سے کہے کہ تمہارا منہ جو بھرنا ہے وہ مجھے بتاؤ اپنے منافع میں سے بھرنا پڑے گا نسبتا منافع کم ہو جائے گا اگر دیانتداری پر قائم رہے اور اپنے منافع سے اس ظالم کا منہ بھرتا ہے تو میں جانتا ہوں کہ خدا ایسی تجارت کو بے برکت نہیں کیا کرتا۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ غیر معمولی حالات پیدا کر دیتا ہے اور ایسا تاجر بیچ جاتا ہے اگر بچنے کی خواہش ہو۔یہ باتیں میں باہر بیٹھا نہیں کر رہا مجھے تجارت کی دنیا کی خبر نہیں ہے میں دور سے دیکھ کر ایک فرضی ہدا یتیں دے رہا ہوں۔جماعت احمدیہ کی بعض تجارتوں میں خلیفہ اسیح نے مجھے نہ صرف ڈائریکٹر مقرر فرمایا بلکہ ایسا اختیار دیا کہ گویا میرا مشورہ جو تھا وہ حاوی تھا باقی سب مشوروں پر اور کاٹن کی تجارت تھی بعض دوسری چیزیں ایسی تھیں۔اس حال میں ہم نے شروع کیا کہ بہت ہی برا حال ہو چکا تھا سب کچھ بکنے کو تیار تھا لیکن خدا نے سہارے دئے اور ہر مشکل کے وقت مددفرمائی صرف فیصلہ یہ تھا کہ ہم جس حد تک ممکن ہے دیانتداری سے کام کریں گے اور اگر کسی محکمے سے اس قسم کا رابطہ کرنا پڑتا ہے تو بعض ایسے آدمی تھے جو اس بات کے ماہر تھے ان کے ذریعے رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن