خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد 15 736 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء بچ سکتا ہوں تو اس کو معین کرو اور پھر خدا سے یہ دعا مانگو کہ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس گناہ سے اس کمزوری سے، اس لغزش سے، اس بد عادت سے، اس بدخلقی سے اور میں جانتا ہوں کہ میرے بس میں نہیں کہ میں یہ حل کر سکوں مگر میں جانتا ہوں کہ حل ہے کیا اور ہر انسان پر روشن ہوتا ہے وہ حل اور اگر نہ ہو تو پھر منجملہ یہ دعا کر سکتا ہے کہ تو بہتر جانتا ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ہر گناہ گار، ہر کمزور، ہر مصیبت میں پھنسا ہوا انسان اس کے حل سے واقف ضرور ہوتا ہے کہ اگر یہ ہو تو پھر میں بچ سکتا ہوں تو اسے معین رکھ کر پھر دعائیں کرے پھر اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے گا اور اس وقت سے پہلے جو اس کی پکڑ کا وقت ہے وہ ضرور آپ کو بچالے گا۔یہ وعدہ جو ہے پکڑ کا وقت اس میں ایک ایسا لفظ ہے جو بڑا ہی ڈرانے والا لفظ ہے یا ڈرانے والا محاورہ ہے کیونکہ ہمیں پتا نہیں پکڑ کا وقت کب آجاتا ہے۔اس میں دو پیغام ہیں ایک تو یہ کہ زیادہ دیر نہ لٹکا و بات کو کیونکہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے یہ فیصلہ کہ کب پکڑ کا وقت شروع ہوتا ہے، میں اس سے پہلے پہلے بیچ جاؤں۔بعض دفعہ لوگ دریاؤں میں بہتے ہیں جو بعد میں آبشاروں میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں ان کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ آگے آبشار آنے والی ہے اور جب وہ پانی تیز ہو جاتا ہے اور اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ وہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اس وقت وہ وقت ہاتھ سے گزر چکا ہوتا ہے پھر جتنے مرضی چپو مار میں ناممکن ہے کہ اس بہاؤ کی طاقت کے برخلاف چل سکیں۔تو اچانک آتا ہے اور اس وقت تد بیر کا وقت گزرجاتا ہے۔اسی طرح دنیا کے ابتلاؤں اور آزمائشوں اور گناہوں کا حال ہے کہ جب وہ وقت آئے گا تو آپ کے بس میں نہیں ہوگا آپ کے علم میں نہیں ہوگا کہ کب کیسے آنا ہے اس لئے اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔اور اگر آپ کسی معین بچنے کی جگہ کا تصور باندھنے کے بعد پھر دعائیں کریں گے تو یہ سب سے بڑی ضمانت ہے اس بات کی کہ آپ اچانک پکڑے نہ جائیں گے کیونکہ جو خلوص سے دعائیں مانگنے والا ہے اللہ تعالیٰ کبھی اس کو اچانک نہیں پکڑتا اگر اس کی کمزوری لمبی ہورہی ہے تو اس کو وہ مہلت دیتا ہے جس سے رفتہ رفتہ وہ کمزوری سے بچ نکلنے کی طاقت حاصل کر لیتا ہے یا جانتا ہے کہ کچھ نہ کچھ گناہوں کے کنارے بھرنے لگے ہیں۔میں آگے نہیں بڑھ رہا گناہوں سے پیچھے ہٹ رہا ہوں، میں مزید شکنجے میں نہیں آرہا بلکہ کچھ نہ کچھ آزادی حاصل کر رہا ہوں۔یہ کچھ نہ کچھ کا جومضمون ہے یہ خدا کے