خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد 15 735 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء یوسف کی اس پناہ گاہ کی برکت سے آتے تھے، اس کے صدقے سے آتے تھے اور اپنے بھائی آئے اور اپنے باپ سے ملاقات ہوئی یہ سارے جو خدا تعالیٰ نے انعامات وابستہ فرمائے یہ اسی گناہ سے بچنے کی پناہ گاہ تھی اس کے سوا اور کوئی بات نہیں تھی۔وہ بچپن کی رؤیا پوری ہوئی ، چاند ستاروں نے سجدہ کیا یعنی اطاعت میں آگئے۔یہ دیکھیں کتنے عظیم الشان فوائد ہیں جو ایک مخلصانہ دعا سے وابستہ ہوتے ہیں۔بظاہر انسان سمجھتا ہے سرسری مطالعہ کرنے والا کہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی یوسف کو اس مصیبت میں ڈالتا وہیں دعا قبول کر لیتا۔مگر چونکہ برکتیں بہت تھیں اور یہ بتانا تھا کہ خدا کی خاطر جوختی کی پناہ گاہ ڈھونڈتے ہو وہ لوگوں کے لئے آرام کی پناہ گاہ بنے گی اور کثرت سے لاکھوں لوگ اور بڑی بڑی قو میں اس سے فائدہ اٹھا ئیں گی اور لمبے عرصے تک اس کی برکتیں پھیلتی چلی جائیں گی۔پھر حضرت یوسف کے بھائی آئے وہاں ان کے ساتھ رہے اس کے نتیجہ میں حضرت یوسف کی قوم کو پھر اس بادشاہ ، وہ بادشاہ فرعون نہیں تھا بلکہ باہر کے آئے ہوئے بادشاہ تھے، ان کے علاقے میں دیر تک بنی اسرائیل کو وہ سارے حقوق ملے اس سے پہلے جن سے وہ محروم تھے اور بنی اسرائیل پھر مصر میں جو آباد ہوئے ہیں تو اسی کی برکت سے آباد ہوئے ہیں۔اور جب اس قوم نے خدا کو بھلا دیا جو حضرت یوسف کی دعا اور قربانی کے نتیجہ میں اس پناہ گاہ تک پہنچی تھی تو وہ پناہ گاہ نہ رہی بلکہ اس پناہ گاہ سے لوگ پنا ہیں مانگنے لگے۔حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں نے دعائیں کیں کہ اے خدا ہمیں اس پناہ گاہ سے نجات بخش ، ہمیں نکال دے اس سے اور ایک وہ بھی ہے جب اس پناہ گاہ سے رہائی نصیب ہوئی ہے جس کو لوگوں کے اپنے اعمال نے گندا کر دیا تھا۔تو قرآن کریم نے جو قصص بیان فرمائے ہیں وہ سلسلہ بہ سلسلہ گہری حکمتوں کے راز رکھتے ہیں اور وہ عقلوں کو روشن کرتے ہیں اور انسانی ، مذہبی تاریخ کو سمجھنے کی توفیق عطا کرتے ہیں تو ان باتوں پر غور کرو۔میں یہ مضمون اس لئے کھول رہا ہوں کہ میں نے عمداً ایک لفظ استعمال کیا آپ کو سمجھانے کے لئے اگر میں یہ باتیں نہ بتا تا تو آپ کو سمجھ نہ آتی کہ کیوں کہہ رہا ہوں کہ پناہ گاہ کومعین کرو۔تم جانتے ہو کہ بعض گناہوں سے بچنے کی کیا راہ ہے جو تم اختیار کر سکتے تھے اگر تم سوچتے ،غور کرتے تمہیں طاقت نہیں ہے وہ راہ تو ہے۔ہر انسان جانتا ہے اگر یہ ہو جائے تو پھر میں