خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد 15 731 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء کی عظمت شان کے خلاف ایک گستاخانہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بدظنی کے طور پر بیان فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر بدظنی نہ کرو۔بندوں پر بدظنی بھی بڑا گناہ ہے مگر رب پر بدظنی بہت ہی بڑا گناہ ہے اور یہ جو بدظنی ہے یہ گناہوں سے باز آنے میں مدد نہیں دیتی بلکہ گناہوں میں آگے بڑھا دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو عبارت ہے میں نے اس مضمون کی تائید میں رکھی ہے وہ میں پڑھوں گا تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ اگر انسان مایوس ہو جائے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا پھر اور گناہ کرتا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ وہ شخص جس نے ننانوے قتل کئے تھے اور وہ جگہ جگہ پھرتا تھا یہ سوال لئے ہوئے کہ کیا میں بخشا جا سکتا ہوں اور کیسے بخشا جا سکتا ہوں تو ہر طرف سے جب مایوسی ہوئی اور ایک بہت بڑے بزرگ جس پر اس کی توقع تھی کہ وہ تو ضرور میری صحیح راہنمائی کریں گے انہوں نے کہا کہ نہیں کوئی رستہ نہیں ہے۔اس نے کہا پھر جہاں ننانوے وہاں سو بھی ہو جا ئیں پورے تو اس کو قتل کر دیا۔تو اب یہ دیکھیں کہ بعض دفعہ مایوسی گناہ کو بڑھانے میں مددگار ہو جاتی ہے اور انسان کو زیادہ جرات بخش دیتی ہے کہ اب جو کچھ ہو چکا، ہو چکا پھر سب کچھ صحیح ہے۔اور وہ لوگ جن کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَحَاطَتْ بِه خطيته (البقرہ:82) کہ ایسا شخص جس کو اس کی برائی نے گھیرے میں لے لیا ہو وہ ایسے ہی لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اب تو ہم گھیرے میں آچکے ہیں اب بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے تو پھر پڑے رہو اسی میں آگے بڑھتے رہو او را کثر گناہوں میں جو شدت اختیار ہوتی ہے وہ خدا کے فضل سے مایوسی کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔پس یہ آیت گناہوں پر انگیخت کے لئے نہیں بلکہ گناہوں سے بچنے کے لئے امید پیدا کرنے کے لئے ہے۔ابھی بھی وقت ہے تم واپس لوٹ سکتے ہو، ابھی بھی وقت ہے تم واپس لوٹ سکتے ہو، ابھی بھی وقت ہے تم واپس لوٹ سکتے ہو کوئی تمہارے ایسے گناہ نہیں ہیں جن کو خدا بخش نہ سکتا ہو۔پس یہ بہت ہی عظیم اظہار ہے اللہ تعالیٰ کی بخشش کا جو گنہگاروں کے لئے سب سے بڑا سہارا ہے۔اگر وہ اس سہارے کا مضمون سمجھیں اگر واپسی کی تلاش شروع کریں اگر ان کے نفس کی پشیمانی بڑھنے لگے اگر وہ تو بہ کی طرف مائل ہوں تو یہ آیت گنہ گاروں کا سب سے بڑا سہارا ہے لیکن اگر یہ کہیں کہ خدا نے تو بخشنا ہی نہیں اب تو ہم بہت آگے گزر گئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں گناہوں میں