خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد 15 726 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء ہے جو صرف ایک دیوان کے نہیں سب دنیا کے دیوانوں کے اور فرزانوں کے کام برابر آتی ہے اس سے اعلیٰ نصیحت ہو نہیں سکتی کہ انسان دنیا کی ناپائیداری کا خیال کرے۔فرماتے ہیں وو۔۔۔لمبے منصوبے اور نا جائز کارروائیاں انسان اسی واسطے کرتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ زندگی کے ایام کتنے ہیں۔جب انسان جان لیتا ہے کہ موت اس کے آگے کھڑی ہے تو پھر وہ گناہ کے کاموں سے رک جاتا ہے خدا رسیدہ لوگوں کو ہر روز اپنے اور 66 اپنے دوستوں کے متعلق معلوم ہوتا رہتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔۔۔“ وہ گر دو پیش سے دیکھ کر اپنی فکر کرتے ہیں یہی بات ہے جو میں نے انا للہ کی تشریح میں آپ کے سامنے رکھی تھی کہ جب کوئی جایا کرے تو اپنی فکر کیا کرو اس سے بہت بڑھ کر تمہاری توجہ اپنے ضمیر کی طرف پھرنی چاہیئے کہ ہم بھی تو اسی طرح نکل جائیں گے تو ہمارا کیا بنے گا اور جانا وہاں ہے جس کی سرکار میں جواب دہی ہے جس کے سوالوں سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔فرماتے ہیں وہ رک جاتا ہے اور خدا رسیدہ لوگوں کو گردو پیش کو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے ”۔۔۔اس واسطے وہ دنیا کی باتوں پر خوش نہیں ہو سکتے اور نہ ان پر تسلی پکڑ سکتے ہیں۔۔۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ: 40-39) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طاعون کی مثال دیتے ہیں یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ طاعون عام تھی غالباً یہ پھر 1900ء کے بعد بیسویں صدی کے آغاز کی بات ہوگی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو۔۔۔یاد رکھو کہ زبان سے خدا کبھی راضی نہیں ہوتا اور بغیر ایک موت کے کوئی اس کے نزدیک زندہ نہیں ہوتا۔۔۔“ یہ جو دوسرا پہلو ہے اس کے متعلق پہلے بھی میں نے متوجہ کیا ہے جماعت کو مگر اب پھر میں عرض کرتا ہوں کہ صوفی جو کہتے ہیں کہ مرجاؤ پہلے اس سے کہ تم مار دیئے جاؤ۔یہ جس رنگ میں انسان سمجھتا ہے اس سے ڈر جاتا ہے اور خوف زدہ ہوتا ہے میں کیسے مر جاؤں اور زندہ رہتے ہوئے بھی اپنے پر ایک موت قبول کرلوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بڑی حکمت اور پیار کے ساتھ سمجھاتے ہیں فرماتے ہیں: