خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد 15 712 خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1996ء وہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے پھر کوئی چارہ نہیں رہے گا کچھ بھی ، خدا کی تقدیر کے سامنے اس سے بچنے کی ، اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ بھی نہ وہ سوچ سکتے ہیں ، نہ ان میں طاقت ہے کہ وہ کچھ کر سکیں اور ساری کائنات یہی منظر پیش کر رہی ہے۔ چنانچہ فرمایا اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَاءِ أَنْزَلْتُهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ کہ انسانی زندگی کو اس کی ناپائیداری سکھانے کے لئے مادی دنیا میں جو زندگی کا آغاز ہے اس کی طرف متوجہ فرمایا ہے یعنی نباتات کی طرف اور یہ جو آیت ہے یہ فصاحت و بلاغت کا ایک ایسا حسین مرقع ہے کہ جتنا اس پر غور کریں اتنا ہی طبیعت اس کی شان و شوکت کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی جاتی ہے ۔ دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا اور دنیا میں روحانی زندگی کی بناء بھی پانی ہی پر ہے اور جسمانی زندگی کی بناء بھی پانی ہی پر ہے۔ اسی لئے جب قرآن فرماتا ہے والسَّمَاء بناء کہ ہم نے آسمان کو بنا بنایا تو بعض مفسرین مشکل میں پڑ جاتے ہیں کہ بناء تو نیچے ہوتی ہے۔ زمین کو بچھونا بنا دیا اور آسمان کو بنیاد بنا دیا۔ آسمان کیسے بنیاد بن گیا ؟ تو اس کا ترجمہ پھر عمارت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ایک ایسی عمارت ہے جیسا کہ ستارے ایک خاص قسم کی شکل میں ڈھلے ہوئے ہیں اور بناء سے مراد آسمان پر بھی ایک عمارت کی بناء رکھی ہے۔ وو میں نے جو ترجمہ کیا اس میں بناء کو بناء ہی رکھا مگر بریکٹ میں زندگی کی بناء “ لفظ زندگی داخل کر دیا جس سے سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔ پانی ہی پر زندگی کی بناء ہے جو آسمان سے اترتا ہے اور الہام پر زندگی کی بناء ہے جو آسمان سے اترتا ہے تو بناء سے مراد زندگی کی بناء ہے۔ زمین کو بچھونا بنادیا یعنی ہموار کر دیا ورنہ جو پانی آسمان سے اترتا ہے یہ کبھی نہ ٹھہر سکتا۔ زمین میں ایسی صلاحیتیں پیدا کیں کہ اس کو اپنے اندر جذب کرے اور اس کو کچھ دیر رکھے اس کے نتیجہ میں پھر نباتات کی نشو و نما ہوتی ہے۔ چنانچہ جہاں پہاڑوں پر بھی نشو و نما ہوتی ہے وہاں پتھر روک بنتے ہیں کچھ تب جا کر زندگی پھولتی پھلتی ہے مگر انسانی زندگی کے لئے تو تمدن کی ترقی مقصود تھی وہ پہاڑی زندگی سے وابستہ نہیں ہو سکتی لازم تھا کہ زمین کو بچھونا بنا کر زندگی کو نشو ونما کے لئے مزید مواقع مہیا کئے جائیں ۔ پر حیوة الدُّنْيَا کی مثال پانی ہی سی ہے اَنْزَلْتُهُ مِنَ السَّمَاءِ جسے ہم نے آسمان سے اتارا فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ اس کے ساتھ پھر زمین کی نباتات مل جل گئیں۔ ممَّا يَأْكُلُ النَّاسُ