خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 697 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 697

خطبات طاہر جلد 15 697 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء چاہئے۔انسان اپنی تمام صلاحیتوں کے باوجود ان دیکھے حملے کے خلاف مؤثر دفاع نہیں کرسکتا لیکن وہ حملے جو دکھائی دیں اس میں بھی بسا اوقات مزید مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔مگر ان دیکھے حملے تو بہت ہی شدید اور مہلک ہو جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے دعا جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان دیکھی چیزوں کو ہمیں دکھا دے اور وقت پر دکھا دے اور پھر ان کی جوابی کاروائی کی تو فیق عطا فرمائے ، حکمت بخشے اور اس حکمت کے منصوبے کو جو انسان بناتا ہے اس پر عملدرآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین تو دعاؤں کا خانہ تو اپنی جگہ ہمیشہ رہے گا اسے نظر انداز کرنا بے وقوفی اور خود کشی ہے۔پس جہاں خدا ما لک اور انسان متوکل ہے اور خدا اس کا وکیل ہے یعنی تو کل کرنے والا انسان ہے اللہ تعالیٰ اس کا وکیل بن جاتا ہے ایسی صورت میں بھی قرآن کریم بار بار دعاؤں کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔جو زیادہ دعائیں کرے گا اس کا زیادہ وکیل اللہ ہو جائے گا اور جو جتنا تو کل کرے گا اتنا ہی ساتھ دعائیں بھی بڑھائے گا کیونکہ تو کل کا مضمون دعا چاہتا ہے۔تو کل کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو کرنا تھا کر لیا مگر ہم جانتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں، نااہل ہیں، ہر چیز پہ ہماری نظر نہیں، عالم الغیب تو درکنار، عالم الشهادہ بھی پورے نہیں ہیں ،اس لئے ہمارے منصوبوں میں ضرور خامیاں رہ گئی ہیں لیکن جو پوری کوشش کے باوجود خامیاں رہ جائیں ان میں انسان کہتا ہے کہ اے اللہ میں تجھ پر توکل کرتا ہوں اور تو اب ان کمزوریوں کو سنبھال لے اور ان کے بداثرات سے ہمیں بچالے۔یہ تو کل سب سے زیادہ آنحضرت میے میں تھا اور اس تو کل کے مضمون کو سمجھنے کی وجہ سے آپ کی دعائیں بے انتہا ہو گئیں یعنی اتنی دعا ئیں تھیں کہ ہم عام زندگی میں اس کا تصور نہیں کر سکتے۔سوتے بھی دعا ئیں جاری ہوتی رہتی تھیں۔بدن سو بھی جائے تو دماغ جاگتا رہتا تھا اور ہر لحظہ، ہر ہر لمحہ خدا کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھا رہتا تھا۔پس تو کل کے مضمون کو اگر آپ سمجھ جائیں تو دعا کا مضمون از خود زیادہ واضح اور روشن ہوتا چلا جائے گا۔پس یہ جو سارے کام میں نے بتائے ہیں بڑے عمدہ چل رہے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خامیوں کے احتمالات نہیں۔خامیوں کے بہت سے احتمالات ہیں اور علم کی کمی منصوبے کی خامیوں کی ذمہ دار بنتی ہے اور انسان عالم الغیب ہے ہی نہیں میں نے جیسا کہ عرض کیا عالم الشهاده بھی نہیں۔کئی لوگ آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جی ہم نے خواب میں دیکھا اور بڑا اخلاص کا اظہار کرتے ہیں ہم احمدی ہو گئے اور سادہ لوح انسان جو اللہ کے نور سے نہیں دیکھتے وہ دھوکے میں آجاتے ہیں حالانکہ