خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد 15 پیدائش کی خوشخبری لے کے آتا ہے۔14 64 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء (سنن نسائی کتاب الصيام باب من قام رمضان و صامه ایماناو احتسابا) اگر ہم ان شرطوں کے ساتھ رمضان سے گزر جائیں جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہیں تو گویا ہر سال ایک نئی روحانی پیدائش ہوگی اور گزشتہ تمام گناہوں کے داغ دھل جائیں گے۔ایک دوسری حدیث بخاری کتاب صلاة التراویح سے لی گئی ہے بـاب فـضـل مـن قـام رمضان “۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ان دونوں حدیثوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔پہلی حدیث میں عبادت کا عمومی ذکر تھا جو اخلاص کے ساتھ ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عبادت کرتا ہے اس کی گویا کہ از سرنو روحانی پیدائش ہوتی ہے، یہاں تہجد کی نماز کا خصوصیت سے ذکر فرمایا گیا ہے جو رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔پس رمضان خصوصیت کے ساتھ تہجد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی تہجد کی نمازیں یوں کہنا چاہئے خصوصیت سے رمضان سے تعلق رکھتی ہیں اگر چہ دوسرے مہینوں میں بھی پڑھی جاتی ہیں اور اس پہلو سے وہ سب جو روزے رکھتے ہیں ان کے لئے تہجد میں داخل ہونے کا ایک راستہ کھل جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر اگر عام دنوں میں تہجد پڑھنے کی کوشش کی جائے تو ہو سکتا ہے بعض طبیعتوں پر گراں گزرے مگر رمضان میں جب اٹھنا ہی اٹھنا ہے اور پیٹ کی خاطر اٹھنا ہے تو روحانی غذا بھی کیوں انسان ساتھ شامل نہ کر لے۔اس لئے اسے اپنا ایک دستور بنالیں اور بچوں کو بھی ہمیشہ تاکید کریں کہ اگر وہ سحری کی خاطر اٹھتے ہیں تو ساتھ دونفل بھی پڑھ لیا کریں اور اگر روزے رکھنے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں پھر تو ان کو ضرور نوافل کی طرف متوجہ کرنا چاہئے۔یہ درست نہیں کہ اٹھیں اور آنکھیں ملتے ہوئے سیدھا کھانے کی میز پر آجائیں ، یہ رمضان کی روح کے منافی ہے اور جیسا کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا اصل برکت تہجد کی نماز سے حاصل کی جاتی ہے اور امید ہے کہ اب اس کو رواج دیا جائے گا، بچوں میں بھی اور بڑوں میں بھی۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے قادیان میں جو بچپن ہم نے گزارا اس میں تو یہ تصور ہی نہیں تھا کہ کوئی شخص تہجد کے بغیر سحری