خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 689
خطبات طاہر جلد 15 689 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء ہوں۔آئندہ بھی سمجھاتا رہوں گا کہ احمدیت ایک بہت بڑا احسان ہے۔اندھیروں سے نکل کر آپ آئے ہیں لیکن روشنی میں پہنچ کر سفر ختم نہیں ہوا بلکہ روشنی میں پہنچ کر سفر کا آغاز ہوا ہے اور توحید کا سفر لامتناہی ہے ، اپنے نفس کو شرک سے پاک کرنے کا سفر لا متناہی ہے۔ان معنوں میں لامتناہی ہے کہ وہ جو خدا کی طرف سے توحید کے نور سے مزین کئے جاتے ہیں یا روشن کئے جاتے ہیں یعنی انبیاء کا گروہ، ان کے سوا باقی ہر طبقے کے بزرگوں اور نیکوں کے لئے توحید کے متعلق محنت کرنی پڑتی ہے، مسلسل محنت کرنی پڑتی ہے اور توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اس لئے سفر لا متناہی رہتا ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی شرک کا حملہ ان کے اوپر ہوتا ہی رہتا ہے۔کبھی اولا د کی طرف سے ابتلاء آ گیا، کبھی نظام جماعت کی سزا کے طور پر ابتلاء آ گیا، کبھی مالی ابتلاء آ گیا، کبھی قریبیوں کی موت ابتلاء بن گئی۔تو انسانی زندگی میں جو تو حید کا سفر ہے وہ بظاہر مکمل ہونے کے باوجود ایک انسان یہ سمجھ بھی لے کہ میں تو حید کامل پر قائم ہو گیا پھر بھی یہ سفر مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے چلے جاتے ہیں ، نئی نئی آزمائشیں آتی چلی جاتی ہیں ، نئے نئے امتحان در پیش ہوتے ہیں تو اللہ کرے ہمیں ان سب تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا ہو کیونکہ ہم پر ذمہ داریاں بہت ہیں۔بہت بڑے کام ہیں جو ہمارے سامنے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو فضلوں کی رفتار بڑھا دی ہے اسے دیکھ کر جہاں روح سجدہ ریز ہو جاتی ہے وہاں خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم سے بڑی تو قعات رکھی ہیں۔کہاں آٹھ دس ہزار احمدیوں کا سال بھر میں ساری دنیا میں جماعت میں داخل ہونا یعنی غیر احمدیوں کا احمدی بنا یا غیر مسلموں کا مسلم بننا، کہاں سولہ لاکھ کا ایک سال میں مہمان بن کر چلے آنا۔تو میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اللہ نے ہم پر نظر رحمت فرماتے ہوئے ہم سے تو قعات رکھی ہیں اور جتنے فضل عطا کئے ہیں اتنی ہی ہم سے توقعات بڑھ گئی ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نظر میں ہم اصلاح پذیر ہیں۔خدا تعالیٰ کی نظر میں ہماری وسعتیں پھیل رہی ہیں ، ہماری صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں اور ان کے مطابق اس کے فضل نازل ہورہے ہیں اور ان کے مطابق ہم سے توقعات اونچی ہورہی ہیں۔پس دعا کرتے رہیں اور تھکے بغیر ، پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر مسلسل قدم آگے بڑھاتے رہیں۔اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو اور خدا ہم سب کو جو آج زندہ ہیں اس آنے والی صدی کا امام بنادے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین