خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 688
خطبات طاہر جلد 15 688 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء جائیں گی اور ہر قسم کے داغ مٹائے جاسکتے ہیں اگر خدا تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہو اور وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة: 45) پر عمل ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وو۔۔۔جب ادنی ادنی چیزوں کے لئے اس قدر صبر سے کام لینا پڑتا ہے تو پھر کس قدر نادان ہے وہ شخص جو اپنی زندگی کی اصلاح کے واسطے اور دل کی غلاظتوں اور گندگیوں کو دور کرنے کے لئے یہ خواہش کرے کہ یہ پھونک مارنے سے نکل جائیں اور قلب صاف ہو جائے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ: 459) یعنی پھونک مارنے سے یہ سارے گناہ دور ہو جائیں اور قلب اچانک صاف ہو جائے۔یہ پھونک مارنے والے پیر اور فقیر سب دنیا کو دھو کے دیتے پھرتے ہیں اور ان کی پھونک سے تو ان کا اپنا نفس بھی کبھی صاف نہیں ہوا۔تعفن کی پھونک ہے جو شرک پھیلاتی ہے۔ایک بد بوجس کے پاس کوئی شریف النفس انسان کھڑا بھی نہیں ہو سکتا اور اتنی جہالت ان لوگوں نے پھیلائی ہے اور ہر سال یورپ کے سفر کرنے والے بڑے بڑے پھونک مارنے والے صوفی آتے ہیں اور درویش اور فقیر پہنچتے ہیں، ان کے اخباروں میں اشتہار چھپ جاتے ہیں کہ وہ بہت پہنچا ہوا صوفی آگیا ہے جو ایک نظر سے تمہیں آر پار کر دے، یہاں سے کہیں اور پہنچا دے گا اور اس کی ایک پھونک سے تم ہر بیماری سے شفا پا جاؤ گے۔یہ سب جھوٹ ہے۔سب ظلم کے قصے ہیں۔شرک کی تعلیم ہے جو یہ دینے آتے ہیں اور جنت کی بجائے جہنم کی گارنٹی ہوتی ہے۔یہ کہنا ان کے لئے جائز ہے کہ ایک پھونک میں ہم تمہیں جہنم میں پہنچادیں گے۔احمدیت نے اللہ کے فضل کے ساتھ آپ کو ان اندھیروں سے نکالا ہے۔اتنا بڑا احسان ہے کہ کوئی انسان اس پر غور کرے تو وہ ساری عمر یہ شکر ادا کرتے کرتے مرجائے تو شکر کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔اللہ نے آپ کو کہاں پیدا کر دیا۔کس روشنی میں پیدا فرما دیا ہے۔امام مہدی کا زمانہ عطا کیا ، اس کی جماعت میں داخل کیا ، اس کی جماعت میں شامل ہو کر محض اللہ نے اپنے فضل سے آپ کو مزید ترقیات کی طرف قدم بڑھانے کی توفیق بخشی۔تو یہ بہت احسانات ہیں جس نے آغاز سفر کے سامان مہیا کئے ہیں لیکن یہ سفر کا انجام نہیں ہے۔یہ بات ہے جو میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا