خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد 15 687 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء معیار ہوگا اور پھر ان میں سے جن کو آگے بڑھانا ہو ان کی تربیت کے سال اور لمبے ہو جاتے ہیں۔مگر خدا کے سپاہی بنے میں یہ عجیب بات ہے کہ جنگ میں داخل تو آپ کو فورا کر لیا جاتا ہے لیکن تربیت کا دور آخری سانس تک جاری رہتا ہے کیونکہ کام بہت وسیع ہیں اور ممکن نہیں کہ انسان ان تقاضوں کو پورا کر سکے اور وقت کی کمی تقاضا کرتی ہے کہ جلدی سپاہی پیش کرو۔تو کچے پکے جتنے بھی سپاہی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میری خاطر تم آتے ہو تو آجاؤ میں تمہیں اپنی فوج میں داخل کرتا ہوں لیکن شرط ہے کہ ساتھ ساتھ سیکھنا ضرور ہوگا اور اپنا معیار ضرور بلند کرنا ہوگا۔پس موت تک جو ہم سپاہی بنتے ہیں اکثر صورتوں میں اور بڑی بھاری اکثریت کی صورتوں میں ہم صالح بنے کی ٹریننگ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔صالح ہو جائیں اور صالح بننا جس کو نصیب ہو جائے ایسی حالت میں کہ جب وہ مرے تو اللہ تعالیٰ فرمائے کہ یہ صالحین میں تھا اور صالحین کی جماعت میں اس نے دم تو ڑا ہے یہ بہت ہی بڑا اعزاز ہے کیونکہ صالحیت کا لقب نجات کا لقب ہے۔جس کو خدا صالح قرار دے دے وہ نجات پا گیا اور مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ میں جو خدا تعالیٰ نے مَعَ کا لقب رکھا ہے پہلے مین نہیں رکھا اس کی ایک بڑی حکمت یہ ہے تا کہ ان کو نبیوں کا ساتھ نصیب ہو سکے۔ہرایک تومن النبین نہیں ہوسکتا ہر ایک تو من الصدیقین نہیں ہو سکتا۔ہر ایک تو من الشهداء نہیں ہوسکتا پس وہ صالح کیا کریں گے جو سب سے نچلی منزل پر بیٹھے رہے یا چلتے چلتے ایسی حالت میں دم توڑ دیا کہ ابھی وہ ابتدائی منزل پر ہی تھے۔کیا ان کو ان بلند تر وجودوں کا ساتھ نصیب نہیں ہوگا ؟ پس پہلا مع یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ مبارک ہو تمہیں کہ تم اب انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ شمار ہوگے كُوْنُوْا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبہ: 119 ) میں یہی پیغام ہے کہ صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران: 194) کہ اے اللہ میں ابرار کے ساتھ موت دے۔تو کتنے بڑے احسانات ہیں۔ایسے احسانات کہ نہ گنے جا سکتے ہیں نہ گنوائے جا سکتے ہیں جو ذوالمنن کے احسانات اپنے بندوں پر ہیں کیسی کیسی شفقتوں کا سلوک فرماتا ہے، کتنے پیار کا اظہار کرتا ہے گنہگاروں کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے اور پھر یہ دستور بنالیا ہے کہ تم سفر شروع کرو جہاں بھی تمہارا انجام ہوگا ہم تمہیں صالحین میں شمار کر لیں گے مگر سفر شرط ہے۔پس آپ یہ سفر کریں اور لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور یقین رکھیں کہ یہ چیزیں جو بہت مشکل دکھائی دیتی ہیں یہ وقت کے ساتھ ساتھ آسان ہوتی چلی