خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد 15 علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: 666 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء ’۔۔۔جب وہ بیعت کرتا ہے اور ایسے کے ہاتھ پر جسے اللہ تعالیٰ نے وہ تبدیلی بخشی ہو تو جیسے درخت میں پیوند لگانے سے خاصیت بدل جاتی ہے اسی طرح سے اس پیوند سے بھی اس میں وہ فیوض اور انوار آنے لگتے ہیں جو اس تبدیلی یافتہ انسان میں ہوتے ہیں بشرطیکہ اس کے ساتھ سچا تعلق ہو، خشک شاخ کی طرح نہ ہو۔۔۔“ اب ایک اور عظیم الشان مضمون ہے جو آپ نے ہم پر کھول دیا۔اب آپ دیکھیں درختوں کے ساتھ بھی تو پیوند کیا جاتا ہے۔آموں کے ساتھ آموں کا پیوند کیا جاتا ہے۔مگر اس پیوند میں مماثلت ضروری ہے اور طبیعت کا میلان ایک جیسا ہونا ضروری ہے۔ورنہ پھل دار درختوں میں سے ہر درخت کا ہر دوسرے درخت سے پیوند ہو ہی نہیں سکتا۔بعض پھل دار درختوں کا بعض پھل دار درختوں سے پیوند ہوتا ہے اور اکثر سے نہیں ہوتا۔تو اس لئے پہلی بات جو سمجھنے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ جب تم بیعت کا ارادہ کرتے ہو تو خدا تعالیٰ نے ایک انسان کو تمہاری بیعت لینے کا ذریعہ بنایا ہے اس سے تمہاری فطرت کو پیوند ہونا چاہئے۔وہ اگر فطرت کا پیوند ہوگا تو پھر اس شخص سے جس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہو تمہاری طرف فیوض جاری ہوں گے اور جتنا خالص پیوند ہوگا اتنا ہی تمہارا وجود اس شخص کے رنگ اختیار کر لے گا جس کے ہاتھ پر تم بیعت کرتے ہو اور اس بیعت میں خشکی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ خشک لکڑی کا پیوند ایک سرسبز درخت سے نہیں ہوسکتا یا ایک سرسبز درخت کی خشک شاخ سے اگر کوئی تر و تازہ شاخ بھی باندھ دی جائے تو وہ پیوند نہیں ہو سکے گا تو دونوں طرف زندگی کی علامتیں ہونا ضروری ہیں۔جس کی بیعت کی جاتی ہے وہ بھی ایک زندہ شعور کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ تمہاری بیعت لے رہا ہو اور تم بھی ایک زندہ شعور اور دعاؤں کے ساتھ اس کی بیعت کر رہے ہو اور جانتے ہو کہ اب ایک نیا پیوند ہے جس کی بناء پر ہماری صفات میں تبدیلی پیدا کی جائے گی۔فرماتے ہیں یہ تبدیلی ضروری ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ سچا تعلق ہو یعنی بیعت میں صرف ایک خشک رسمی الفاظ کا دہرانا نہیں ہے اگر خشک لفظی الفاظ دوہرا کر تم بیعت کرو گے تو ایسا ہی ہوگا جیسے خشک شاخ کو ایک سرسبز شاخ سے باندھ دیا گیا ہو وہ ہزاروں سال بھی بندھی رہے تو سرسبز شاخوں کی