خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد 15 665 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء وو۔۔یہ تو بہ کی حقیقت ہے جو اوپر بیان ہوئی اور یہ بیعت کی جز کیوں ہے؟ ( فرمایا) تو بات یہ ہے کہ انسان غفلت میں پڑا ہوا ہے۔جب وہ بیعت کرتا ہے اور ایسے کے ہاتھ پر جسے اللہ تعالیٰ نے وہ تبدیلی بخشی ہو تو جیسے درخت میں پیوند لگانے سے خاصیت بدل جاتی ہے اسی طرح سے اس پیوند سے بھی اس میں فیوض اور انوار آنے لگتے ہیں جو اس تبدیلی یافتہ انسان میں ہوتے ہیں۔۔۔66 اب دیکھیں بیعت کا مضمون اپنی ذات میں خوب کھول کر یہ بیان کر کے کہ یہ بیعت جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان وہی خدا کے ہاتھ مقبول ہوتا ہے جو اپنی جان بھی بیچ دے، اپنے مال بھی بیچ دے، اپنا سب کچھ خدا کے ہاتھ پر بیچ دے اس بات کا اقرار پھر وہ بیعت کے ذریعے کرتا ہے اور بیعت انسان کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور یہ بیعت جو ہے اس کا بہت ہی باریک اور لطیف مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس کے ہاتھ پر تم بیعت کرتے ہو اس کی اپنی تاثیرات کا بھی تمہاری بیعت سے ایک گہرا تعلق ہوتا ہے۔آنحضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرنا ایک اور بات تھی اور باوجود اس کے کہ حضرت ابو بکر آپ کے بچے برحق اور صدیق خلیفہ تھے پھر بھی وہ بیعت جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کی گی وہ اور بیعت تھی اور جو حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر کی گئی وہ اور بیعت تھی۔پس خلافت کی بیعت کو جو حضرت رسول اللہ ﷺ کی اپنی خلافت تھی وہ بیعت نہیں قرار دیا جس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے ، جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت تھی اور یہ فرق کیوں ہے جبکہ عہد بیعت ایک ہے۔عہد بیعت دونوں جگہ برابر ہے۔دونوں جگہ یہ عہد باندھا جارہا ہے خدا سے کہ اے ہمارے آقا ہم نے وہ سب جانیں جو تو نے عطا فرمائیں اپنی، اپنے عزیز واقارب کی تیرے حضور پیش کر دی ہیں، اب یہ ہماری نہیں رہیں۔وہ تمام اموال، وہ تمام نعمتیں جو تو نے ہمیں عطا فرما ئیں اب ہم یہ تیرے حضور پیش کرتے ہیں تا کہ ہماری جان بخشی جائے۔اس عہد بیعت میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہی وہ عہد بیعت ہے جو نبیوں کے ہاتھ پر لیا جاتا ہے، یہی وہ عہد بیعت ہے جو خلفاء کے ہاتھ پر لیا جاتا ہے لیکن فرق ایک ہے۔وہ فرق کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود