خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 661
خطبات طاہر جلد 15 661 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔۔۔‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ: 2 ، 3 ) فرمایا یہ بھی یاد رکھو کہ جن کو تم معصوم جانتے ہو اور واقعہ معصوم بھی ہوتے ہیں ان کے اندر کبر اس لئے پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بار یک دربار یک غلطیوں پر نظر رکھتے ہیں اور ہلکے سے داغ کو بھی گناہ سمجھتے ہیں۔وہ بشری کمزوریاں جو ان سے سرزد ہوتی ہیں وہ بھی ان کو تمہارے گناہ کبائر کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر نبی ستر بار استغفار کرتا ہے تو اپنا حال سوچو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے۔تمہاری تو ساری زندگی استغفار میں ڈھل جانی چاہئے اور وہ استغفار ایک فرضی استغفار نہیں ہے بلکہ عارفانہ استغفار ہے اور اس پہلو پر میں پہلے بھی آپ کو متوجہ کر چکا ہوں۔انبیاء کے متعلق یہ خیال غلط اور جھوٹا ہے کہ وہ تصنع سے استغفار کرتے ہیں ، جانتے ہیں کہ وہ معصوم ہیں اور پھر بھی استغفار کرتے ہیں۔انبیاء کا کوئی زندگی کا ایک لمحہ بھی جھوٹا نہیں ہوا کرتا ، ان کی ہر حالت سچی ہوتی ہے۔پس انبیاء جب اپنے حال پر نظر کرتے ہیں تو جس بلندی سے وہ اپنے حال کو دیکھتے ہیں انہیں اپنے حال کی ہر پستی اور ہر گہرائی جو بشریت کی پستی اور بشریت کی گہرائی ہوا کرتی ہے وہ دکھائی دیتی ہے اور وہ اپنے آپ کو گنا ہوگا سمجھتے ہیں۔بسا اوقات جو نیکیاں کرنا چاہتے ہیں جتنی چاہتے ہیں، ہمیں تو علم نہیں کہ وہ کتنی چاہتے ہیں ،مگر اتنی زیادہ چاہتے ہیں کہ ان کے بس میں نہیں ہوتی۔اگر ان کا دل چاہے جیسا کہ دل چاہتا ہے تو آنا فانا ساری دنیا کو سچا مسلمان بنادیں اس کے لئے تڑپتے ہیں ، بے قرار ہوتے ہیں اور وہ مواقع جو ان کے ہاتھ سے جاتے رہے ان پر نظر ڈالتے ہیں گویا کہ ہر کام جو نیکی کا کام ہے جس کو کرنے سے وہ عاجز آگئے وہ اپنی فہرست میں گناہوں میں داخل سمجھتے ہیں۔پس انبیاء کا ستر بار استغفار ایک بہت گہرا اور بہت اعلیٰ مضمون ہے۔بلند مضمون بھی ہے اور گہرا مضمون بھی ہے۔اس کو سمجھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ رنگ اختیار فرمایا۔پہلے کہا کہ گناہ نہ ہوتا تو انسان متکبر ہو جاتا۔پھر فرمایا کہ نبی تو معصوم ہوتا ہے اس کے متعلق غور کرو کہ وہ اس لئے معصوم ہے کہ متکبر نہیں ہوتا اور اس کا انکسار، اس کا اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھنا جب اس کو ستر بار تک استغفار پر آمادہ کرتا ہے تو یہ استغفار ہے جو اس کے لئے متکبر ہونے کا کوئی دور کا امکان بھی باقی نہیں رہنے دیتا۔پس عام انسان جب گناہ کو اس طرح دیکھے اور اس سے بچنے کے لئے ویسی کوشش کرے جیسے انبیاء کرتے ہیں تو یہی وہ بچی تو بہ ہے جو انسان کو انکسار سکھاتی ہے اور بلندیاں