خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 660
خطبات طاہر جلد 15 660 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء اس کا زہریلا مادہ ختم کر دیا جائے اور خفیف کر دیا جائے تو اسی زہر میں شفا ہو جاتی ہے۔تو فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی تخلیق کائنات کے فلسفے پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ کوئی زہر بھی ایسا نہیں جو اپنی ذات میں شفا کا مادہ نہ رکھتا ہومگر اس میں شفا کا مادہ تب پیدا ہوتا ہے اگر اسے کچل کر خاکستر کر دیا جائے اور یہ صفت بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی ہے کہ اپنے گناہوں سے وہ نیکی پالے، اپنی بدیوں میں سے نجات تلاش کر لے لیکن شرط یہ ہے کہ جیسے حکیم زہر کا کچلہ بناتا ہے اور اس کے زہریلے مادے کو بے اثر کر دیتا ہے تب اس میں شفا کا ایک مادہ پھوٹتا ہے۔اسی طرح انسان کے اندر جو گناہ کے میلانات ہیں یہ محض ہلاکت کے لئے نہیں بلکہ انہی میلانات پر اگر انسان قابو پالے، ان کے خلاف ایک جہاد کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہو تو حیران ہو جائے گا کہ انہی گناہوں میں دراصل اس کی نجات پنہاں تھی ، اس کی نجات چھپی ہوئی تھی۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔۔۔“ ایک اور لطیف پہلو یہ ہے کہ گناہ کے نتیجے میں انسان کے اندر ایک انکساری پیدا ہوتی ہے اور اگر گناہ نہ کرتا یعنی تمام انسان اس بات کی طاقت پاتے کہ گناہ نہ کریں تو انسان جیسا کہ خود سر ہے وہ خدا بن بیٹھتا اور گناہ ہی ہے دراصل جو اگر قابو میں رکھا جائے اور اس سے تو بہ کی جائے اور اسے کچل کر بالآخر خاک بنا دیا جائے تو گناہ ہی میں انسان کی نجات ہے کیونکہ اس سے انکسار پیدا ہوتا ہے اور اگر گناہ نہ ہوتو رعونت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بھی اس مضمون کو بعض حکایات کی صورت میں پیش فرمایا ہے کہ وہ نیکی جو انسان کے علم میں محض نیکی ہی ہو اور اس کی اپنی کمزوریوں کی طرف اس کی نظر نہ ہو وہی نیکی اس کو ہلاک کرنے کا موجب بن جاتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں وہ رعونت اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں پاک ہوں اور باقی سب بد ہیں اور گویا ایک قسم کی خدائی کا دعویدار بن بیٹھتا ہے۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔کبر اور عجب کی آفت سے گناہ انسان کو بچائے رکھتا ہے کبر اور مجب۔کبر کا مطلب ہے اپنی بڑائی ، مجب پسند کو کہتے ہیں اور پسند کے نتیجہ میں ایک فخر کا اظہار اس کو عجب کہتے ہیں ) جب نبی معصوم ستر بار استغفار