خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد 15 629 خطبه جمعه 9 اگست 1996ء درد پیدا ہو جاتا ہے، ایک قوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ آوازیں لازماً آسمان کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں۔پس صلى الله آنحضور پر علم کا مضمون سکھا کر پھر درس و تدریس کی روحانی تربیت کی باتیں فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے سکینت عطا فرمائے گا اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو ڈھانپ لے گی۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے ڈھانچے رکھتی ہے، فرشتے اسے گھیرے رکھتے ہیں جب تک کہ وہ ان باتوں میں مصروف رہتا ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دیکھیں ترقی کہاں سے کہاں تک جا پہنچی ہے۔اب ایسا شخص جو علم کو خدمت دین کے لئے ، خدمت بنی نوع انسان کے اعلیٰ تقاضوں کی خاطر استعمال کرے۔فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں اس کا ذکر کرتا ہے۔اس دنیا میں آپ باتیں کر رہے ہیں نیکی کی اور آپ کا ذکر اوپر کی مجلسوں میں چل رہا ہے۔غالب تو کہتا ہے: ے گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے بایں ہمہ ، ذکر میرا، مجھ سے بہتر ہے کہ، اس محفل میں ہے (دیوان غالب : 242) برائی کے باوجود اگر چہ برا ہی ذکر ہے مجھے خوشی ہے کہ میرا ذکر اس محفل میں ہے مگر آنحضرت ﷺ جو ان محافل کے راز دان ہیں ، آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا بھلائی سے ذکر چلے گا اور اللہ اپنے مقربین میں تمہارا پیار سے ذکر کرے گا۔جو شخص عمل میں ست رہے اس کا نسب اور خاندان اس کو تیز نہیں بنا سکتا یعنی وہ خاندانی بل بوتے پر جنت میں نہیں جاسکے گا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو ہر شخص کے لئے برابر یکساں مہیا ہیں اور حسب نسب کا اس کا کوئی دور سے بھی تعلق نہیں ، قومیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔سب کے لئے دعوت عام ہے۔تم اس پر عمل کرو اور یہ ساری بلندیوں کے وعدے جو تم سے کئے گئے ہیں یہ سب رفعتیں جن کے تمہیں وعدے دئے جارہے ہیں یہ تمیں عطا کی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین