خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 628
خطبات طاہر جلد 15 628 خطبہ جمعہ 9 راگست 1996ء انسان اکٹھے ہوں اور ان کی باتوں پہ کہیں پردے ڈالے جارہے ہیں کہیں پردہ دری ہورہی ہے اور ہر انسان سمجھ رہا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو صلاحیتوں کے تیز ہونے سے تعلق رکھتا ہے ،حسیات کے دائروں کے پھیلنے سے تعلق رکھتا ہے اور قرآن کریم یہی وعدے فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن تمہیں تیز حسیں عطا کی جائیں گی کہ جن باتوں کا تم پہلے کوئی شعور نہیں رکھتے تھے وہ شعور تمہیں نصیب ہو جائے گا۔پس ہوگا ضرور۔جو بات آنحضرت ﷺ نے فرمائی لاز م ہو کر رہنے والی بات ہے۔پس ڈراتے ہیں کہ تم آخرت کی پردہ دری سے ڈرو۔یہاں اگر تم اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرو گے تو یا درکھو قیامت کے دن یا قیامت کے بعد جب آخری حساب فہمی ہو گی اللہ تعالیٰ تم سے بھی پردہ پوشی کا سلوک فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد کے لئے تیار رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد کیلئے تیار ہو۔اب ان سب باتوں میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا وَ تَوَاصَوْا کا مضمون داخل ہے۔اس لئے آپ اگر یہ سمجھیں کہ یہ بے تعلق باتیں ہیں، کلیۂ بے تعلق نہیں ہیں۔مومن وہ ہے جو نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے نیکیوں میں ایک دوسرے کا مددگار بنتا ہے اور یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو کر وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ کی نصیحت بن جاتی ہیں۔پس بظاہر یہاں تعاون کی بات ہورہی ہے۔اپنے بھائی سے تعاون کرو، اس کی ضرورتیں پوری کرو، اس کی پردہ پوشی کرو اس کے حوائج جتنے بھی ہیں اس کو پورا کرتے ہوئے تمہیں تکلیف بھی اٹھانی پڑے تو تکلیف اٹھاؤ۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس کا نصیحت سے تعلق نہیں مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو کام تم نیک کرتے ہو اس کی نصیحت بھی کیا کرو۔غریبوں سے ہمدردی کرو تو ہمدردی کی نصیحت بھی کیا کرو۔پس اس مضمون کا نصیحت کے ساتھ از خود تعلق قائم ہو جاتا ہے۔پس آنحضور ﷺ کی نصیحت کا انداز بھی درجہ بدرجہ آگے بڑھتا ہے۔پہلے ان بنیادی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں جن کے بغیر انسان اعلیٰ مضامین کی طرف بڑھ ہی نہیں سکتا اور پھر ان مضامین کا ذکر کرتے ہیں تو بے اختیار روح سے آنحضرت ﷺ کے لئے درود کی آواز میں اٹھتی ہیں۔دعا ئیں تو سوچ کر کی جاتی ہیں مگر اگر آنحضور کے احسانات پر آپ نظر ڈالیں تو بے اختیار آپ کی روح سے آواز میں اٹھیں گی ناممکن ہے کہ ان آوازوں کے ساتھ درد کی چیچنیں شامل نہ ہوں کیونکہ ایک محسن کا احسان جب غلبہ کر لیتا ہے، جب چھا جاتا ہے اس کی روح پر تو اس وقت بے اختیار ان آوازوں میں ایک