خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 627
خطبات طاہر جلد 15 627 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء اس کمزوری کے علم سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان کا خطرہ ہے ایسی صورت میں اگر کوئی پردہ دری کرتا ہے تو اپنا نقصان کرے گا، اپنی عاقبت خراب کرے گا اور قوم کو نقصان پہنچائے گا۔قوم کو نقصان اس طرح پہنچتا ہے کہ مثلاً بعض جماعتوں کی طرف سے مجھے بعض لوگ لکھتے ہیں کہ فلاں امیر صاحب ہیں ان میں یہ یہ کمزوریاں ہیں اور ہم نے جب یہی بات کی تھی تو لوگ ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ہمارا کیا جرم ہے؟ سچ بولا ہے ہم نے۔سوال یہ ہے کہ تمہارے متعلق بھی اگر سچ بولے جائیں اس طرح تو تمہارا کیا حال رہے گا؟ تمہاری بیوی بچوں کے متعلق ایسے سچ بولے جائیں تو تمہارا کیا حال رہے گا؟ اگر وہ ایسی کمزوریاں ہیں جو منظر عام پر نکلی ہیں تو پھر بھی تمہارا فرض یہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو بتاؤ۔پھر تم پر لازما یہ فرض بن جاتا ہے کہ بالا افسران تک اس کو پہنچاؤ یا اس کومل کر نصیحت کرو۔اگر وہ کام نہیں کرتی تو بالا افسران تک پہنچاؤ۔اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو اوپر پہنچاؤ جہاں تک بندوں میں تمہاری رسائی ہے تمہارا فرض ہے کہ پہنچاتے چلے جاؤ کیونکہ اب یہ کمزوری ذاتی نہیں رہی بلکہ فحشاء بن گئی ہے۔مگر ذاتی کمزوریوں کا جہاں تک تعلق ہے قرآن حدیث میں پردہ پوشی کا ہی حکم ہے اور اللہ بھی پردہ پوشی فرماتا ہے۔پس ایسے لوگ جو لوگوں کے پردے کھینچتے ہیں اللہ ان کے پردے کھینچ لیا کرتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قیامت کے دن بھی یہی حیاء کا پردہ ہے جو آپ اپنے لئے رکھتے ہیں اور اپنے بھائی کے لئے بھی رکھتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی ستاری کا پردہ بن جائے گا۔اگر اس دنیا میں آپ یہ حیاء کا پردہ چاک نہ کر دیں، نہ اپنے لئے رکھیں نہ غیر کے لئے رکھیں تو قیامت کے دن بھی آپ کے لئے کوئی ستاری کا پردہ آپ کی بدیوں کو ڈھانپنے کے لئے نہیں اترے گا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے یہ حوالہ دیا ہے جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔یہ ہے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام، حیرت انگیز ہے۔کوئی اپنی طرف سے بنانے والا جس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے روشنی نہ اتری ہو اس قسم کی باتیں نہیں کیا کرتا۔وہ نقد نقد سودے کی باتیں کرے گا۔وہ کہے گا تم پردہ پوشی کرو تمہاری بھی پردہ پوشی ہوگی لیکن آخرت کا حوالہ دے کر اس مضمون کو بہت وسعت دے دی ہے۔فرمایا اس دنیا کی پردہ پوشی نہ بھی ہو تو اتنا فرق نہیں پڑتا مگر اس بھری دنیا میں جو پردہ دری ہو رہی ہو جبکہ اگلے پچھلے سب جمع ہوں اور وہ کیسے ہوگی اللہ بہتر جانتا ہے ورنہ ہماری محدود عقل میں ان صلاحیتوں کا تصور ہی نہیں کہ آغاز سے لے کر انجام تک کے