خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 626
خطبات طاہر جلد 15 626 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء بہت اہم ہے۔انفرادی کمزوریاں جو ہیں ان میں پردہ پوشی کا ہی حکم ہے لیکن وبائی کمزوریوں میں پردہ پوشی کا حکم نہ صرف یہ کہ نہیں ہے بلکہ ایک جرم بن جاتی ہے۔ہر وہ معاملہ جس کا دین کی بقاء سے تعلق ہو ہر وہ معاملہ جس کا اسلامی معاشرے کی حفاظت سے تعلق ہو اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے جو اس معاشرے میں رخنہ ڈالنے والی ہو جو نظام کو کمزور کرنے والی ہو اس کے متعلق پردہ پوشی کا کہیں کوئی حکم نہیں ہے۔بلکہ قرآن فرماتا ہے لازم ہے کہ وہ تم اولوالا مرلوگوں کی طرف پہنچایا کرو۔جب ایسی باتیں سنو تمہارا فرض ہے کہ وہ جن کو خدا نے عقل اور فہم عطا کیا ہے، جو جانتے ہیں کہ پیچھے کیا کیا محرکات کام کر رہے ہیں جو تجزیہ کر سکتے ہیں یعنی اس کی بدیوں سے جماعت کی حفاظت کر سکتے ہیں فرمایا ان تک ضرور پہنچاؤ اور وہاں صرف رسول اللہ مکہ تک پہنچانے کا حکم نہیں بلکہ سب ایسوں کی طرف پہنچانے کا حکم ہے۔یعنی جمع کا صیغہ ایسا استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں اگر ایک جگہ کوئی امیر ہے اس کے چھوٹے دائرے میں بھی کوئی ایسی حرکت ہو رہی ہے تو پردہ پوشی کے نام پر آپ کہیں کہ اس نے بات تو ایسی کی تھی جس سے جماعت کو نقصان پہنچتا تھا۔جس سے جماعت کے وقار کو ٹھوک لگتی تھی ، جس سے لوگوں کے اخلاص کو صدمہ پہنچتا تھا مگر ہم نے دیکھو پردہ پوشی کر لی، یہ پردہ پوشی نہیں ہے۔یہ بے وفائی ہے سلسلہ کے اعلیٰ مفادات سے اور جماعت سے بے وفائی ہے جس کو نقصان پہنچے گا۔مگر ایک شخص کمزوری چھپ کے کرتا ہے، وہ خدا کی آنکھوں سے تو چھپ نہیں سکتا بنی نوع انسان سے کم سے کم شرم تو کرتا ہے، آپ اس کی کمزوری پر اطلاع پاتے ہیں اور اس کا چرچا کر دیتے ہیں یہ پردہ پوشی کے خلاف ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو خدا اپنی ستاری کا پردہ تم سے بھی اٹھالے گا اور اگر خدا کی ستاری نہ رہے تو ہر انسان ننگا ہے۔یہ تو وہ حمام ہے جس میں سب کی نظر ہے۔شیشے کا حمام ہے ہر کوئی دیکھ لے گا اگر خدا کی طرف سے ستاری کا پردہ نہ ہو۔ہرلمحہ خدا کی ستاری کے اندر چھپے ہوئے ہم زندگی بسر کر رہے ہیں۔اگر یہ نہ ہوتا تو یہ زندگی دنیا ہی میں جہنم بن جاتی۔تو اس لئے یہ مضمون اچھی طرح سمجھ لیں جب حضور اکرم نے پردہ پوشی کا حکم دیتے ہیں تو و با والی بیماریوں سے پردہ پوشی کا حکم نہیں دیتے۔جس شخص میں وبائی بیماری ہے اور آگے پھیلا سکتا ہے اس کی اطلاع اولوالا مر کو کرنا جہاں جہاں بھی وہ اولوالامر ہو لازم ہے اور جہاں اس کی ذاتی کمزوری ہے اور