خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 57
خطبات طاہر جلد 15 57 خطبہ جمعہ 19 / جنوری 1996ء اور صرف اس حد تک سختی ایک پیار کرنے والے سے اپنے پیارے کے اوپر ڈالی جاتی ہے اور یہی عبادتوں کا سارا مفہوم ہے۔جہاں سختیاں ہیں وہاں اس کے بدلے ضرور آسانیاں مقدر ہیں۔ورنہ کبھی بھی خدا تعالیٰ انسان پرسختی نہ ڈالتا۔چنانچہ فرمایا فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسرًا (الم نشرح: 7،6) دیکھو عبادت کے مضمون میں یہ بات ہو رہی ہے۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ لي وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ (الم نشرح : 8، 9) - تو عبادت کے تعلق ہی میں یہ بات ہو رہی ہے رمضان کی۔فرمایا دیکھو جوختی بھی ہم ڈالتے ہیں ایک یہ معنی بھی ہے اس آیت کا لازماً اس کے بعد آسانی آتی ہے اور آسانی کی خاطر سختی ڈالی جارہی ہے، بختی کی خاطر سختی نہیں ڈالی جا رہی۔پس قرآن کریم کی تمام آیات مسلسل اسی مضمون پر روشنی ڈالتی چلی جا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ سختی کو پسند نہیں کرتا ، نہ بختی کی خاطر کسی کو سختی میں مبتلا فرماتا ہے ہاں بعض فوائد ایسے ہیں جو سختی میں سے گزرنے کے بعد آخر پر رکھے گئے ہیں۔اب زمیندار ہے جو محنت کرتا ہے تو اس کو چھ مہینے یا سال کے بعد آنے والی فصل دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔اس کی خاطر وہ خود اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔کوئی شخص اپنا دشمن نہیں ہوا کرتا سوائے اس کے کہ پاگل ہو۔تو وہاں اس کو دکھائی دے رہا ہے کہ یہ بختی ہی مجھے مناسب ہے ، یہی مجھے راس آئے گی اور جہاں ہمیں دکھائی نہیں دے رہا ہوتا وہاں اللہ کو دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔پس خدا کی وسیع نظر کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔جو اللہ چاہے جس حد تک سختی ڈالے اسی حد تک قبول کریں اس سے آگے بڑھ کر زبر دستی سے آپ خدا کو راضی نہیں کر سکتے۔چنانچہ اس مضمون پر آنحضرت ﷺ نے عبادتوں کے تعلق میں ہی ایک موقع پر بڑے جلال سے فرمایا کہ دیکھو تم اپنے اوپر سختیاں کر کر کے خدا پر غالب نہیں آسکتے۔ناممکن ہے کہ تم زبر دستی خدا کو خوش کر سکو ہاں تم ٹوٹ جاؤ گے اور خدا کی تقدیر تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔پس سختیاں خدا کی طرف سے بھی سختی کی خاطر نہیں ڈالی جاتیں اور انسان کو بھی زبر دستی خدا کو خوش کرنے کی توفیق نہیں ہے۔ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو خود مارا جائے گا۔اس لئے اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اس رمضان میں داخل ہوں تاکہ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ کا یہ مضمون بھی روشن ہو کہ یہ رمضان ہمارے لئے بہت سی آسانیاں لے کر آئے جو پہلے نہیں تھیں۔ان آسانیوں میں