خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد 15 56 60 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء آجاتے ہیں، اس کا دل چاہتا ہے میں دے رہا ہوں لے لے، اس کو بھی مزہ آئے مجھے بھی مزہ آئے۔تو انسان کو خدا تعالیٰ نے اپنی فطرت کے مطابق پیدا فرمایا ہے۔اس کا ایک یہ بھی معنی ہے اگر فطرت سچی اور پاک ہو تو اس کو دیکھ کر خدا کے منشاء کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ رعایت دے رہا ہے وہاں نہیں نہیں جی ہم تو سختی کر سکتے ہیں ، کوئی بات نہیں یہ بہت بے وقوفی کی بات ہے اس رعایت کو پیار اور محبت سے سر جھکا کر عشق کے جذبے سے قبول کرو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو چھ چھ مہینے کے مسلسل روزے رکھے ہیں اور ایسے روزے رکھے ہیں جن میں صبح اور شام کی خوراک اتنی کم ہو چکی تھی کہ ایک عام انسان اس پر زندہ نہیں رہ سکتا اور اس کے باوجود عبادت کی سختیاں ، تو اس کا فتویٰ ہے یہ ، جس کی اپنی عبادتوں کا یہ حال تھا جس کا مطلب ہے کہ لازماً سراسر ایک عشق کے اعلیٰ مقام کا فتویٰ ہے۔ایک ایسے عارفانہ مقام کا فتویٰ ہے جو جانتا ہے کہ نیکی صرف رضا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جسم کی سختی کے ساتھ نہیں اور روزوں میں بھی جسمانی سختی خدا تعالیٰ کے پیش نظر ہے ہی نہیں اور بہت سی باتیں جو پیش نظر ہیں مگر تکلیف دینا خدا کے پیش نظر نہیں ہے۔پس جب خدا فرماتا ہے کہ چھوڑ دوتو چھوڑ دو جب خدا کہتا ہے رکھو تو رکھو۔پس فرمایا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا جو بیار ہو أَوْ عَلَى سَفَرٍ یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ تو پھر رمضان میں روزے نہ رکھنا بعد میں رکھ لینا۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ بختی کرو گے تو خدا بہت خوش ہوگا۔اپنی جان کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے تو اللہ بڑا راضی ہو گیا تم مصیبت میں پڑ گئے۔اللہ تو تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے سختی نہیں چاہتا اور کوئی دوست کسی دوست کے لئے سختی نہیں چاہتا۔کوئی ماں کسی بچے کے لئے سختی نہیں چاہتی۔پس یہ مفہوم بھی ہے جو سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے اس کے باوجود ماں صبح جلدی بچے کو اٹھا کر تیاری کرواتی ہے ، سکول بھجوانے کے لئے ، روتا پیٹتا بھی رہے تب بھی اس کو زبر دستی ٹھیک ٹھاک کر کے سکول بھیج دیتی ہے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ ماں تختی چاہتی ہے۔اس حد تک سختی لازم ہے جس حد تک جس پر سختی کی جائے یعنی اپنا پیار اوہ اس سختی کا محتاج ہے اور اس کے بغیر وہ فوائد سے محروم رہ جائے۔پس محبت میں جہاں سختی ہٹائی جا سکتی ہو ، ترک کی جاسکتی ہو ، محبت کرنے والا کبھی سختی میں نہیں ڈالے گا۔جہاں تختی لازمہ ہے اس سے گزرے بغیر اپنے محبوب کی بھلائی ممکن نہیں ہے اس حد تک