خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد 15 608 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء سے چھٹیاں لیں کس نے سکول کے بچوں اور کالج کے طالب علموں کو کہا تھا کہ اپنی پڑھائیاں ایک طرف کردو آج اور دوڑتے ہوئے خدمت دین کے لئے حاضر ہو جاؤ۔کوئی حکم ایسا نہیں تھا جس کی پابندی ان پر لازم ہوتی۔جو نہیں تھے ان کو کبھی کوئی سزا نہیں ملی۔سینکڑوں ہیں جو محروم رہے ہیں کبھی کسی نے آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھا کہ تم کون لوگ ہو۔اگر دیکھا ہے تو رحم کی نظر سے دیکھا ہے کہ بے چارے محروم رہے مگر غصے کی نظر کبھی کسی پہ نہیں ڈالی گئی۔یہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى تھا جس نے ان کو حیرت زدہ کر دیا اور انہوں نے کہا کہ اب میں سمجھا ہوں یہ صداقت ہوتی کیا ہے۔اب میں سمجھا ہوں کہ سچائی کس کا نام ہے اور اس اقرار کے بعد انہوں نے فوراً بیعت کر لی اور یہ عہد کر کے واپس گئے ہیں کہ اب میں اپنی ساری قوم کو جب تک احمدی نہ بنالوں میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔وتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى تو ایک عظیم الشان نعمت ہے اس کے ایسے پھل ہیں جو پھر آگے پھل پیدا کرنے والے درخت بن جایا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ابھی کل ہی اس کی ایک اور مثال میرے سامنے آئی جب سینیگال کا وفد مجھے آخری دفعہ جانے سے پہلے ملنے کے لئے آیا تو ان کے ساتھ گیمبیا کے ایک بہت بڑے چیف بھی تھے جو احمدی نہیں تھے۔نہ چلتے وقت احمدی تھے نہ یہاں پہنچ کر انہوں نے احمدیت کا کوئی اظہار کیا، بالکل خاموش رہے ہیں۔مسئلہ بھی کوئی نہیں پوچھا لیکن ان کی خواہش تھی میں بھی جاؤں دیکھوں کیا ہوتا ہے تمہارے ہاں، ان کو بلا لیا گیا۔جب وفد سے میری باتیں ختم ہوئیں اس میں مضمون یہی چل رہا تھا جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اس طرح اب آپ نے اپنی قوم کے لوگوں کو سچائی کی طرف بلانا ہے کیونکہ آپ کو اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے۔آپ پر فریضہ تو نہیں ہے ان معنوں میں کہ آپ نہ کریں تو ہم آپ کو پوچھ سکتے ہیں مگر اس کو اپنے دل کا جذ بہ بنالیں۔ایسا جذ بہ بنائیں کہ آپ بے اختیار ہو جا ئیں ، آپ سے ہو نہ سکے کہ لوگوں کو دعوت الی اللہ کے بغیر آپ چین سے بیٹھ سکیں۔یہ جب باتیں میں کر رہا تھا تو ان کے چہرے کے آثار بتا رہے تھے کہ وہ پہلے ہی اس کے لئے تیار بیٹھے تھے اور ان کے دل کی آواز تھی جو میری زبان سے نکل رہی تھی۔جب ہماری باتیں ختم ہوئیں تو سیمبین چیف نے ہاتھ اٹھایا کہ میں کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرما ئیں۔انہوں نے بتایا کہ دیکھیں میں چلتے وقت احمدی نہیں تھا میرا احمدیت قبول کرنے کا کوئی دور کا بھی خیال نہیں