خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد 15 607 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء فطرت ثانیہ نہیں ، فطرت اولیٰ جاگ اٹھے کیونکہ یہی تو فطرت ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ہر اچھی بات میں تعاون کرو، ہر بات جو خدا سے تعلق والی ہو جو خدا چاہتا ہے،تقویٰ کا مضمون یہ ہے جو اللہ چاہتا ہے ویسا ہی کرو تو پھر جھگڑے اٹھ جاتے ہیں کون حاکم ، کون محکوم۔تمام حاکم اور تمام محکوم ہو جاتے ہیں۔یہ وہ ایک عظیم مساوات ہے جس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اور انسان کسی کے سامنے گردن جھکانے پر کسی پہلو سے بھی عار محسوس نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری گردن تو خود میرے اندر کی نیکیوں کے سامنے خم ہو چکی ہے۔میں تو اپنے دل کی نیک آوازوں کے خلاف سراٹھا ہی نہیں سکتا تو جب باہر سے وہ آواز آئے کیسے میں اس کی مخالفت کروں گا۔پس اگر اس پہلو کے پیش نظر ہم اپنی تمام زندگی کو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کے تابع کرلیں گے تو جماعت کو پھر کسی قسم کے کوئی خطرات در پیش نہیں ہوں گے اور جماعت کی بقاء کا راز اس میں ہے کیونکہ نظام جماعت کی بقاء اطاعت پر منحصر ہے اور اطاعت کی بقاء وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ منحصر ہے۔یہ وہ مزاج ہے جو اطاعت کی روح پیدا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے اگر آپ اطاعت کو اختیار کریں تو جماعت کی ساری زندگی میں ہر جگہ ایک حیرت انگیز دلکشی پیدا ہو جائے گی۔ایک آدمی آپ کو بلاتا ہے آؤ یہ کام کریں، یہ پوچھے بغیر کہ اسے بلانے کا اختیار ہے کہ نہیں اگر اچھی بات کی طرف بلا رہا ہے آپ دوڑے ہوئے چلے جائیں گے۔مشرک بلاتا ہے تو چلے جاتے ہیں تو مومن بلاتا ہے کیوں نہیں جائیں گے۔ہراچھے کام میں ایک دوسرے کے ساتھ ، ایک دوسرے سے بڑھ کر آپ تعاون اختیار کرنا شروع کریں گے اور یہ جو جذبہ ہے اس سے قوموں کی تقدیر بدل جائے گی۔اس کے بغیر ناممکن ہے کہ آپ دنیا میں عظیم روحانی انقلاب برپا کر سکیں۔آنے والے آرہے ہیں آپ کو دیکھ رہے ہیں اور سب سے زیادہ ان کی ذات پر آپ کا یہ اندرونی تعاون ہے جو اثر انداز ہوتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر البانیہ کے آئے ہوئے ایک عالم نے یہ بیان کیا کہ میں تو جب آپ کو ایک ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں ، وہ یہ بیان نہیں کر سکا کہ کیا بات ہے وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ تھا جس کو وہ دیکھ رہا تھا۔بوڑھے، بچے ، جوان ہر نیکی کی آواز پر آگے بڑھے اور لبیک کہا اور ہر بوجھ اٹھا لیا۔حالانکہ ان پر فرض نہیں تھا، کوئی زبردستی نہیں تھی، کوئی طاقت نہیں تھی نظام کے پاس کہ زبر دستی ان کو ان کاموں پر مامور کرے کس نے ان کو کہا تھا کہ اپنے دفتروں