خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 55

خطبات طاہر جلد 15 55 خطبہ جمعہ 19 جنوری 1996ء کریں اور جو اصول میں نے آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں وہ بالکل کھل چکے ہیں، مجھے نہیں سمجھ آ سکتی کہ اس کے بعد پھر بھی کوئی ابہام باقی رہے۔اب اگلا حصہ ہے وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرِفَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پر جو کوئی بھی مریض ہو یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ اَيَّامٍ أُخَرَ تو اسے دوسرے ایام میں اس عدت کو پورا کرنا ہوگا یعنی مریض ہو تو روزہ نہ رکھے۔سفر کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی کہ اگر سفر مشکل ہو تو روزہ نہ رکھے ،سفر آسان ہو تو رکھ لے۔اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس آیت کی رو سے یہ واضح فتویٰ تھا کہ روزے کی آسانی یا مشکل زیر بحث نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہی میں آسانی ہے اور اسی میں نیکی ، اسی میں تقویٰ ہے۔پس جب رمضان میں سفر آئے تو روزہ نہ رکھو اور جب رمضان گزر جائے تو جتنے روزے چھٹ گئے ہیں فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پھر دوسرے دنوں میں اس مدت کو پورا کر لیا کرو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں یہ نیکی ہے کہ سفر میں بھی روزہ رکھ لیا جائے اور یہ زیادہ بہتر ہے حالانکہ بالکل غلط بات ہے۔تمام روزہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں روزے آسان ہو جاتے ہیں کیونکہ سارے ہی رکھ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے نفس کا بہانہ ہوتا ہے کہ میں نیکی کر کے سفر میں روزے رکھ رہا ہوں۔نفس بعض دفعہ دھوکہ دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سفر کے دوران رمضان میں روزے رکھ لئے جائیں تو وہ آسان ہیں۔رمضان گزرنے کے بعد پھر وہ روزے پورے کئے جائیں تو یہ مشکل ہے۔تو وہ اپنی طرف سے نیکی کر رہا ہوتا ہے، حالانکہ نفس کے بہانے کے تابع وہ خود دھو کہ کھا رہا ہوتا ہے۔نیکی تنگی یا مشکل میں نہیں ہے۔نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔جس بات کا اللہ حکم دے اسے قبول کرو جس کی وہ اجازت دے شوق سے اس اجازت کو استعمال کرو اور یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔بعض دفعہ کسی کو آپ کوئی چیز دیتے ہیں بعض بچے آتے ہیں کہ نہیں نہیں رہنے دیں، کوئی ضرورت نہیں ، میں نے دیکھا ہے ماں باپ کی لگتا ہے جان نکل گئی ہے، فکر سے وہ ڈانٹتے ہیں ، ضرورت نہیں کیا مطلب لے لو تمہیں خدا نے توفیق دی ہے تمہیں کچھ انعام دیا جارہا ہے اسے ضائع مت کرو اور یہ انسانی فطرت کی آواز ہے کیونکہ وہ جو تکلف ہے جب کوئی دینے والا ایسا ہو جس سے تمہیں پیار ہو یا جس کے لئے تمہارے دل میں عزت ہو اس کا کچھ عطا کرنا اگر تم قبول کرو تو اس کے لئے خوشی کا موجب ہوتا ہے اگر نہ قبول کرو تو اس کے چہرے پر ملال کے آثار