خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 598 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 598

خطبات طاہر جلد 15 598 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء ہوالیکن قانون قدرت کو توڑنے کا معجزہ کبھی نہیں ہوا کرتا کیونکہ وہ قانون دان جو قانون بناتے وقت ضرورت کا خیال نہ رکھے اور اسے علم نہ ہو کہ کبھی میرا قانون نا کافی ہو جائے گا اور میرے مقاصد کی راہ میں حائل ہوگا اس کو توڑے بغیر میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا وہ قانون ناقص ہے۔پس اللہ کا قانون قدرت کامل قانون ہے اس میں ادنیٰ بھی آپ تضاد نہیں پائیں گے۔جتنا چاہیں نظر دوڑائیں ، نظر تھکی ہوئی واپس آ جائے گی اور کوئی تضاد نہیں پائے گی یہ مضمون ہے قانون کے کمال کا۔تو نبیوں کے لئے قانون توڑنے کا کیا مطلب ہے۔اس لئے نبیوں کے لئے جو قانون ٹوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ہمیں اپنے وقت کی معلومات کے لحاظ سے ان کی کمی کے پیش نظر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قانون توڑا گیا ہے۔بعض لوگ آگ پر چلتے ہیں ، قانون نہیں ٹوٹتا کیونکہ ایسے مادے موجود ہیں جن کو اگر استعمال کیا جائے اور پاؤں پر اچھی طرح ان کو مل لیا جائے تو انسولیشن پیدا کر دیتے ہیں اور جلنے والے احساسات کو وہ ختم کر دیتے ہیں ، ان کی قوت سلب ہو جاتی ہے، ایک قسم کی فالجی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اول تو جلنے کی راہ میں وہ مادے روک بن جاتے ہیں اور دوسرے احساس میں کمی آنے کی وجہ سے ایک انسان کوئلوں پر چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور البانیہ میں یہ بہت رواج ہے کہ بعض صوفی اپنا رعب ڈالنے کی خاطر وہ لوگوں کو یہ تماشے دکھاتے ہیں کہ دیکھو آگ کے کوئلے سلگاؤ ہم اس پر چل کر دکھائیں گے ہم خاص خدا والے لوگ ہیں اس لئے ہر معاملے میں ہماری اطاعت کرو۔یہ بالکل جھوٹ ہے اور فرضی بات ہے۔مگر آگ ٹھنڈا کرنے کے قوانین خدا نے خود بنائے ہوئے ہیں۔ان قوانین کا علم ہو جائے تو پھر آپ کے لئے آگ ٹھنڈی ہوسکتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا قانون ایک بالا قانون ہے اور تعاون کے ذریعے جب انسان نیکیوں میں تعاون کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے قوانین کی تائید ہوتی ہے، ان کی مخالفت نہیں ہوتی اور تعاون کے ذریعے انسان قوانین کی اطاعت کے لئے پہلے سے بڑھ کر آمادہ ہو جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو بتایا گیا ہے یعنی اگر مشرک سے تمہیں تعاون کرنے میں باک نہ رہے تو کیا نیک بندوں سے تعاون میں تمہیں باک ہوگی۔آنحضرت ﷺ نے جو عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ الفاظ بیچ میں رکھے کہ ہم معروف میں آپ کی اطاعت کریں گی تو معروف سے مراد یہی تعاون کی باتیں ہیں۔دراصل ہر بات کو خدا تعالیٰ نے فرض قرار نہیں دیا۔بہت سی نیکیاں ہیں، راہ چلتے آپ