خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 597

خطبات طاہر جلد 15 597 خطبہ جمعہ 2 اگست 1996ء بے اختیار ا چھی بات ہوتی دیکھیں تو آگے بڑھ کر اس میں حصہ لینے کی کوشش کریں ان کو کیا ضرورت ہے کہ ان کو زور سے کہا جائے اطاعت کیا کرو کیونکہ اطاعت تو ہے نیکی میں ۔ جن کو تعاون کی روح سے نیکیاں اختیار کرنے کا جذبہ ہو ، وہ اس میں بے اختیار پائیں اپنے آپ کو وہ نیکی میں حصہ لئے بغیر رہ نہ سکیں ان کی اطاعت کامل ہو جایا کرتی ہے، نا ممکن ہے کہ وہ اطاعت سے پیچھے ہٹیں ۔ صلى الله پس آپ جماعت کے نظام پر غور کر کے دیکھیں اطاعت سے باز رہنے والے وہی ہیں جن کو نیکیوں میں تعاون کی عادت نہیں ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کیوں کریں؟ کس نے آپ کو اتھارٹی دی ہے؟ حالانکہ جو نیک کام میں تعاون کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس میں کسی اتھارٹی کا ذکر نہیں ۔ نیک کام میں تعاون کی مثال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر پہلو سے اپنے ماتحتوں سے ان کے کاموں میں تعاون فرمایا کرتے تھے ۔ رستہ دکھانے میں تعاون، بوجھ اٹھانے میں تعاون ، گھر کے کاموں میں ، مشاغل میں تعاون ، کوئی سوال کرنے والی بڑھیا آکے سوال کرتی تھی تو تعاون کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔ کسی بچے کا پیغام آگیا کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے اٹھ کے اس کے گھر روانہ ہوئے۔ جو سب سے زیادہ مطاع بنایا گیا جس سے بڑھ کر مطاع کا مضمون کسی کی ذات میں تصور نہیں کیا جا سکتا یعنی آنحضرت ﷺ ہر نیکی کے مضمون میں ، ہر الہی مضمون سے تعلق رکھنے والے معاملات میں سب کے سردار بنائے گئے اور سب کو آپ کے تابع فرمادیا گیا ۔ وہ آدم کو فرشتوں کا سجدہ کرنا جس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے وہ خلیفہ کے سامنے سجدہ تھا، خلیفہ اللہ کے سامنے اور وہ اپنے اعلیٰ معانی کے طور پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہی تھے حالانکہ اس سے پہلے تمام انبیاء بھی خلفاء ہی ہیں یعنی براہ راست اللہ کے خلیفہ اور ان کے ساتھ نیکیوں میں تعاون کرنے کا تمام کائنات کو حکم دیا گیا ہے۔ اس میں فرشتہ صفت لوگ بھی شامل ہیں، فرشتے بھی شامل ہیں۔ جب فرشتے شامل ہو جائیں تو کائنات کا سارا نظام داخ نظام داخل ہو جایا کرتا ہے۔ اس لئے بسا اوقات آپ جو اعجازی نشان دیکھتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ قانون قدرت کو توڑا گیا ہے۔ قانون قدرت کو تو ڑا نہیں جاتا بلکہ فرشتوں کے سجدے کا ایک یہ بھی مضمون ہے کہ خدا تعالیٰ کے قوانین میں جہاں جہاں گنجائشیں موجود ہیں وہاں خلیفۃ اللہ کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ان کو استعمال کرو اور وہ انسان جو ابھی سائنسی لحاظ سے ترقی کی ادنی منازل پر ہو وہ اپنے وقت میں اس مضمون کو سمجھ نہیں سکتا۔ وہ سمجھتا ہے معجزہ ہو گیا۔ معجزہ تو صلى الله