خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 596

خطبات طاہر جلد 15 596 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء ہے کہ اگر دل میں سچائی ہے تو پھر یہ ہدایت دے گی اگر دل میں سچائی نہیں ہے تو ہدایت نہیں دے گی۔تو یہ سچائی کا مضمون تقویٰ کے آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔بغیر سچائی کے تقویٰ قائم نہیں ہوسکتا اور اگر تقویٰ کا خدا کے حوالے سے مضمون پیش نظر نہ بھی ہو تو ہر انسان کی سچائی اس کا تقویٰ بن جاتی ہے کیونکہ تقویٰ کا مطلب بنیادی طور پر یہ ہے کہ ٹھوکروں کی جگہ سے بیچ کر چلنا، جہاں نقصان ہو اس سے ہٹا کر قدم رکھنا اور ان معنوں میں تقویٰ کا سب سے عام معنی یہی ہے کہ انسان سچائی کو اختیار کرے سچائی کی روشنی میں آگے بڑھے اور جہاں جہاں ٹھوکر کا مقام ہے اس سے بچے۔پس اس پہلو سے ہر انسان کا تقومی کوئی نہ کوئی مفہوم رکھتا ہے یا رکھ سکتا ہے اور جتنی انسانی ترقی ہدایت کی طرف ہوئی ہے خواہ وہ مادی ترقی ہی کیوں نہ ہو وہ تمام تر تقویٰ پر مبنی ہے۔جہاں انسان نے جھوٹ کی پیروی کی وہاں اس کو کوئی بھی پھل نہیں ملا محنت کا۔پس یہاں جو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى اور ان قوموں سے تعاون خاص طور پر پیش نظر ہے جنہوں نے شرک اختیار کیا، جنہوں نے ظلم کیا ہے اس لئے تقویٰ کا وہ معنی لینا پڑے گا جو سب سے عام اور وسیع تر معنی ہے۔ان لوگوں سے بھی اچھی باتیں ہوتی ہیں ان میں ان سے تعاون کرو۔حلف الفضول کی مثال وہ مثال ہے جو مشرکین کے دور میں تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے۔اس زمانے میں بھی ان میں نیک لوگ تھے اور مظلوم کی حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور اس حمایت کے جذبے ہی نے ان کو مجبور کیا جو تین فضل نامی اشخاص تھے کہ ایک معاہدہ کی بنیاد ڈالیں جس میں شامل ہونے والے خواہ ان کے نام فضل ہوں یا نہ ہوں ، جو بھی شامل ہوں یہ عہد کریں کہ ہم ضرور مظلوم کی حمایت کریں گے۔تو یہ تقویٰ ہے جس پہ آنحضرت ﷺ نے رسالت سے پہلے بھی تعاون فرمایا اور یہ وہ تعاون ہے جس کی امت کو تعلیم دی جارہی ہے اور اس میں مذہب کا فرق مٹادیا گیا ہے۔بدقوموں سے بھی ہمشرک قوموں سے بھی نیکیوں میں تعاون کرو۔یہ اتنی اہم تعلیم ہے کہ اگر اس کو ہم سمجھ لیں تو کسی اطاعت کے جذبے پر زور دینے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کیونکہ تعاون میں طوعی مضمون داخل ہے۔نیک کام ہو رہا ہے دیکھتے ہو تو آگے بڑھو اس میں حصہ لو۔تو جو لوگ نیکیوں میں تعاون کرتے ہوں اور یہ نہ پوچھتے ہوں کہ کیوں کریں ، آخر کس کا حکم ہے، ان لوگوں کو جن کو اس سوال کی عادت نہ رہے نیکی اپنی طرف کھینچے اور