خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد 15 595 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء ہے۔آپ نے فرمایا اجر تو مل گیا تمہیں تم جو ہدایت پاگئے تو اور اجر تمہیں کیا چاہئے۔یہ انہی نیکیوں کا اجر ہے۔پس تقویٰ ان میں بھی ہوتا ہے جو مشرک ہوں مگر محدود تقویٰ ہے اور تقویٰ کے جو ابتدائی معنی ہیں، ان میں آپ کو تقویٰ کی جھلکیاں دکھائی دیں گی اور دنیا میں کوئی انسان بھی نہیں ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے تقویٰ کے مضمون پر عمل نہ کرتا ہو۔بعض دہر یہ ہیں لیکن تقویٰ کا وہ مضمون جو سچائی سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے اندر بھی آپ کو دکھائی دے گا۔تقویٰ کے بغیر کوئی ہدایت نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ مغربی قومیں جو خدا کے تصور کے بغیر ایک تحقیق کا سفر اختیار کئے ہوئے ہیں کیوں ان کو جزامل رہی ہے، کیوں ان کی تحقیقات کو بے شمار پھل لگ رہے ہیں۔اس لئے کہ وہاں بھی جب تک یہ تقویٰ پر قدم رکھتے ہیں ان کو پھل ملتا ہے، جہاں تقویٰ سے ہٹ جاتے ہیں ان کو کوئی پھل نہیں ملتا۔چنانچہ ایک لمبا عرصہ انہوں نے سائنس کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے اپنے تصورات کی متابعت کرتے ہوئے دولتمند بننے کی کوششیں کی ہیں۔جس طرح ہمارے ملک میں کیمیا گری کی تلاش رہی ہے مغربی قوموں میں بھی کئی قسم کے نسخے استعمال ہوا کرتے تھے اور مذہب کے غلط تصورات کے نتیجہ میں یہ جستجو کیا کرتے تھے کہ کس طرح ہم جلد سے جلد اپنے مقصد کو حاصل کر لیں۔ان میں منفی مقاصد بھی ہوتے تھے اور مثبت بھی لیکن کبھی کسی کو کوئی پھل نہیں لگا۔ان میں بعض دفعہ یہ بھی رواج تھا کہ اپنے دشمن کو مارنے کے لئے یہ اس کے بت بناتے ، موم کے بت بناتے اور عین اس کے دل میں سوئیاں سپیوست کر دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اب یہ سوئی جو ہے یہ اس کے دل میں چھے گی۔اب یہ ساری جہالت کی باتیں ہیں تقویٰ سے عاری ہیں یعنی تقویٰ کے ان معنوں سے بھی عاری ہیں جو بنیادی طور پر ہر انسان کو کسی نہ کسی حد تک نصیب ہوا ہے۔در اصل تقویٰ دل کی سچائی کا دوسرا نام ہے اور اگر دل سچا ہو تو پھر خدا تعالیٰ سے ہٹ کر الگ راہ اختیار نہیں کر سکتا۔اسی لئے قرآن کریم نے ہدایت کے آغاز میں ہی یہ فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرۃ:3) کتاب میں تو کوئی شک نہیں ، اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ کتاب اللہ کا کلام ہے۔اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ یہ الکتاب ہے یعنی کامل ہدایت ہے اور اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ اس میں ہدایت کے سوا اور کچھ بھی نہیں لیکن هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہدایت متقیوں کو ہی دے گی۔جن میں تقویٰ نہیں ان کو کوئی ہدایت نہیں بخشے گی۔پس یہاں بھی وہی تقویٰ کا ابتدائی معنی