خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد 15 594 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوا یہ وہ لوگ جنہوں نے مذہب کی دشمنی میں تمہیں حج بیت اللہ سے باز رکھا، روکے رکھا اور اس لحاظ سے انہوں نے تم پر ظلم کیا ان کی یہ دشمنی بھی تمہیں ان سے انصاف کرنے سے مانع نہ بنے۔جہاں تک انصاف کے تقاضے ہیں ان کے معاملے میں پورے کر ولیکن صرف انصاف کے تقاضے پورا کرنا ہی تمہاری شان نہیں ہے۔وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ان سے تقویٰ اور نیکی میں تعاون بھی کرو۔یع عظیم الشان عالمگیر تعلیم ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان علماء بعض دوسری آیات سے ایسا استنباط کرتے ہیں جو ان آیات کے واضح مضامین سے متصادم ہے، بیک وقت دونوں اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔پس قرآن کریم میں جو محکمات ہیں ان کے تابع متشابہات کی تاویل کی جاتی ہے نہ کہ متشابہات کے تابع محکمات کی۔یہ وہ آیت ہے جو محکمات میں سے ہے۔نہایت ہی اہم فرائض بلکہ تمام امت مسلمہ کے فرائض میں سے سب سے مرکزی فریضہ جو حج کا ہے اس کے متعلق تعلیم دی جارہی ہے۔قطعیت کے ساتھ یہ محکمات میں داخل آیت ہے اور اس تعلق میں دو نصیحتیں جوفرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ تم جب صاحب اختیار ہو تو ہر گز ایسی قوم سے بھی نا انصافی سے پیش نہ آؤ جو تم سے نا انصافی سے پیش آتی رہی ہو اور تمہارے دینی فرائض میں بھی مل رہی ہو ان کے تعلق میں بھی یاد رکھو کہ تم نے مضبوطی کے ساتھ عدل کا دامن پکڑے رکھنا ہے اور مزید برآں اگر وہ نیک کام کریں تو ان سے نیک کام میں تعاون کرو اور تقویٰ میں تعاون کرو۔اب اکثر وہ تقویٰ سے تو عاری ہوتے ہیں اس لئے یہاں تقویٰ کا کیا مضمون ہے۔تقویٰ کا جو مضمون یہاں پیش نظر ہے وہ ابتدائی ، بنیادی انسانی فطرت میں ودیعت شدہ تقویٰ ہے یہ بات غلط ہے کہ ہر قوم کلیۂ تقویٰ اللہ سے عاری ہو چکی ہوتی ہے۔مشرکین بھی بعض کام اللہ کے تقویٰ سے اختیار کرتے ہیں۔چنانچہ ہندو مشرکین میں داخل ہیں ان میں ایسے لوگ بھی بت پرست ہیں جو محض خدا کی خاطر اور اللہ کے خوف کی خاطر صرف بنی نوع انسان میں سے ضرورت مندوں کی مدد نہیں کرتے بلکہ جانوروں کو بھی روٹی ڈالتے اور دانے پھینکتے ہیں۔ایک موقع پر ایک ایسے ہی مشرک نے جو اپنے شرک کے زمانے میں پرندوں کو روٹی ڈالا کرتا تھایا دانے پھینکا کرتا تھایا گوشت پھینکتا تھا، چیلیں اٹھا کے لے جائیں ، اس نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ باتیں جو میں خدا کی خاطر اس زمانے میں کیا کرتا تھا ان کا بھی کوئی اجر