خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد 15 54 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء کے دنوں کے مطابق عمل کریں۔یعنی اگر ساٹھ (60) یا ستر (70) ڈگری شمال پر ایک ملک کا کوئی شہر آباد ہے اور اس ملک کا ایک حصہ پچاس (50) ڈگری یا چالیس (40) ڈگری شمال پر بھی ہے اگر ایک سال میں جو جنوبی حصہ ہے اس کا سارا رمضان معمول کا رمضان ہے یعنی سورج کی علامتیں اور چاند کی علامتیں پوری اس پر صادق آرہی ہیں اور شمالی حصے پر صادق نہیں آرہیں تو بجائے اس کے کہ وہ چھلانگ لگا کر خط استواء تک پہنچے اور وہاں کا معمول پکڑے، عقل تقاضا کرتی ہے کہ اپنے ہی ملک میں جو قریب تر جگہ ہے جہاں معمول کے روزے چل رہے ہیں ان کے اندازے کے مطابق اپنے روزوں کے اندازے کر لیا کریں۔تہجد کا وقت بھی اس کے مطابق کرے اور سحری کا وقت بھی اور افطاری کا وقت بھی اور اس طریق پر انشاء اللہ تمام جماعت اسلامی کو وقت کے اختلاف کے باوجود بھی ایک وحدت ضرور نصیب ہوگی اور وحدت کے مختلف رنگ ہیں۔ایک وحدت یہ ہے کہ ایک ہی اصول کے مطابق سب چلیں ، نئے اصول اپنی اپنی جگہ الگ نہ گھڑیں۔قرآن کریم نے جو اصول بنایا ہے وہ بڑا واضح اور قطعی ہے جو میں آپ کے سامنے کھول چکا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے جو اس کا مطلب سمجھا اور دنیا پر خوب کھول دیا اس کے بعد آپ اس اصول پر عمل کریں پھر خواہ کسی کا رمضان کسی اور دن شروع ہو اور کسی کا اور دن شروع ہو وحدت میں فرق نہیں آئے گا کیونکہ وحدت تو حید کی اطاعت سے وابستہ ہے انسانی گھڑیوں کے حساب سے وحدت نہیں بنائی جاسکتی۔اتنا فرق پڑ جاتا ہے زمین کے دور کی وجہ سے کہ ایک دن یہاں آج جمعہ ہے تو ایک ایسی جگہ ہے جہاں جمعرات ہے اور اسی وقت ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہفتہ طلوع ہو چکا ہے تو زبر دستی وحدت کیسے آپ بنائیں گے۔توحید کے خلاف چل کر وحدت بنائی جاسکتی ہے؟ جس خدا نے پیدا کیا ہے اس کی غلامی میں وحدت بنے گی اس سے ہٹ کر نہیں بن سکتی۔پس اس کے قوانین کو سمجھنا اور ان پر ایک اصول کے مطابق تمام دنیا میں یکساں عمل کرنا پھر اگر وقت تبدیل بھی ہوں تو وحدت نہیں ٹوٹ سکتی کیونکہ اللہ کے احکام کے تابع آپ منسلک رہیں گے، ایک لڑی میں منسلک رہیں گے کوئی آپ کو الگ نہیں کر سکتا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آج کے بعد اس بارہ میں مجھے مزید خط موصول نہیں ہوں گے ورنہ سارا رمضان کافی ڈاک پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔ہر آدمی اپنی جگہ سے پوچھتا ہے کہ بتاؤ ہم یہاں کیا کریں، ہم وہاں کیا کریں، تمام ممالک اس خطبہ کی روشنی میں کمیٹیاں بنائیں اور وہ سب کی راہنمائی