خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد 15 591 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء پس خزا نہ محض خزانے کے طور پر نہیں اترتا۔خزانہ عقلوں کی روشنی لے کر اترتا ہے۔وہ آسمان سے نور جب تک نہ اترے کہ خزانے کو کیسے استعمال کرنا ہے اس وقت تک خزانہ بھی بے کار ہے۔پس یہ وہ رب ہے جس کے حق میں ہمیں ہر روز اپنی نماز میں گواہی دینی ہے۔مگر اگر آفاق کے حوالے سے نہیں دے سکتے تو نفس کے حوالے سے تو دے کے دیکھیں۔اپنے آپ کو تو سچا بنا ئیں۔یہ تو دیکھیں کہ خدا کے رزق میں اگر چہ ہم اس کے شکر کا حق ادا کر ہی نہیں سکتے اس کے ادا کردہ رزق سے ہم نے کیا فائدہ اٹھایا۔کس حد تک ایسا استعمال کیا کہ اس کی رضا کے تابع ہو۔اب جہاں رزق کمانے کی میں نے بات کی ہے وہاں رزق کے خرچ کی بات بھی تو ہے۔اگر انسان رزق کماتا بھی حرام کے ذریعے سے یا جائز بھی کماتا ہے اور حرام کا موقع ملتے ہی حرام کے موقع پر بھی ضرور منہ مارتا ہے تو اس کا سارا رزق گندا ہو جاتا ہے۔پھر جب خرچ کرتا ہے اگر اس کے اندر طاقت ہو کہ اس کی انا کا بت اس سے پل سکے۔اگر یہ کیفیت ہے تو پھر لا الہ الا اللہ کی گواہی اسے کب زیب دیتی ہے۔بہت ہی دردناک منظر ہے، بہت ہی دل دہلا دینے والا مضمون ہے۔پس ہر نماز ہمیں جھنجھوڑتی ہے ہم سے گواہی مانگتی ہے ہم دے کر چلے جاتے ہیں اور سوچتے بھی نہیں کہ ہماری ہر گواہی آسمان سے جھٹلا دی گئی ہے۔صلى الله پس اے امت محمدیہ اتم اگر محمدرسول اللہ ﷺ کے غلام ہو اگر تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور اس کے بندے تھے تو اس گواہی کو اس طرح دو جس طرح اس رسول اور اس بندے نے گواہیاں دی تھیں۔ایک بھی گواہی جو محمد رسول اللہ ﷺ نے دی وہ ایسی نہیں تھی جس کا آپ کو ذاتی طور پر علم نہ ہو۔اب دیکھیں علم سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے۔بے علم کی گواہی بھی جھوٹ ہوتی ہے، ظن کی گواہی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنَّ ( النساء: 158) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس گواہی کا کیا حال ہے جو عیسائی دیتے ہیں یا یہود دیتے ہیں۔جب علم ہی کچھ نہیں تو ظنی باتیں ہیں۔تو یہ بات ہم پر لازم کرتی ہے، ہر نماز ہم پر لازم کرتی ہے کہ اپنا علم بڑھا ئیں اور ہر قسم کا علم بڑھا ئیں۔اس میں مذہبی علم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔کوئی بندش نہیں ہے کہ ہم صرف مذہبی علم بڑھائیں کیونکہ اللہ جس کا ئنات کا خدا ہے جس کا ئنات کا رب ہے اس کی تخلیق میں مذہب اور غیر مذہب کے درمیان حقیقت میں کوئی تفریق ہی نہیں رہتی۔جو مذہبی لوگ اس کی کائنات پر غور کرتے ہیں وہ دنیا کا علم ان کے لئے دنیا کا علم نہیں، دین کا علم بن جاتا ہے اور جو صاحب عقل دنیا کے علوم پر