خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد 15 570 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء بتارہا تھا کہ میں بکثرت فوج در فوج لوگوں کو احمدیت میں داخل ہوتا دیکھ رہا ہوں۔اس کثرت سے آئیں گے ہر طرف سے کہ آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے۔ایسے ہی ایک خطاب کے موقع پر ایک ہندو پنڈت جو باہر سے آیا ہوا تھا اس نے ایک احمدی سے کہا کہ آج تو مجھے لگتا ہے میں نے کرشن دیکھ لیا ہے کیونکہ جس یقین کے ساتھ اس نے خدا کی باتیں کی ہیں وہ سچے انسان کے سوا کوئی کر نہیں سکتا۔اور لوگ کہتے تھے یہ کیسے ہوگا۔مانتے تو تھے، دل بھی چاہتا تھا مان جائیں مگر آثار نہیں تھے۔اب دیکھو کیسا خدا نے موسم بدل دیا ہے، کایا پلٹ گئی ہے۔وہ جماعتیں جن کے متعلق سالہا سال کی کوششیں بے کار گئیں ان میں زندگی کے آثار پیدا نہ ہو سکے۔اب وہ جب خبریں بھیجتے ہیں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ میں نے تو ان سے اتنی توقع نہیں رکھی تھی یہ اس سے آگے نکل گئے ہیں۔پھر میں ان کو کہتا ہوں اچھا غلطی ہو گئی اب آپ کا ہم ٹارگٹ بڑھا رہے ہیں اور اس پر وہ ناراض نہیں ہوتے۔وہ کہتے ہیں اچھا دعا کریں ہم یہ ٹارگٹ بھی پورا کریں ، اس سے بھی آگے نکلیں اور اللہ کے فضل سے یہ بھی ہو جاتا ہے۔تو دن ایسے آرہے ہیں یعنی پھل پک رہے ہیں اور خدا پکا رہا ہے ، موسم لے آیا ہے۔ہماری کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے، ہمیں کوششوں کی توفیق بھی خدا نے بخشی ہے۔اس بات کا جتنا میں قائل ہوں کوئی مجھ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا کیونکہ میں تو جوانی کے آغاز سے ہی تبلیغ تبلیغ کی رٹ لگائے رکھتا تھا خدام الاحمدیہ میں بھی ، وقف جدید میں بھی جہاں بھی میری پوسٹنگ ہوئی جہاں جاتا تھا تبلیغ کرو تبلیغ کرو، اٹھو اور دعوت دو مجلسیں لگاتا تھا ہر جگہ سوال وجواب کی گویا ایک جنون کی سی کیفیت خدا تعالیٰ نے خود میرے دل میں ڈالی تھی۔میری اس میں قطعا کوئی خوبی نہیں تھی۔اب میں سمجھا ہوں کہ مجھے تیار کیا جارہا تھا اور اب دیکھیں باوجود ان سب کو ششوں کے کبھی بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ان معنوں میں کہ میں کوئی انقلاب ہوتا دیکھوں، واقعہ لوگ تبلیغ شروع کر دیں۔یہی مسجد لندن ہے یہاں کے امام صاحب کو میں چٹھیاں لکھتا تھا تو جواب آتا تھا کہ یہاں حالات اور ہیں آپ نہیں سمجھتے۔جرمنی والوں کو کہتا تھا تو کہتے تھے یہاں تو کوئی نہیں سنتا۔یہ دنیا ہی اور ہے آپ کس دنیا میں بسے ہوئے ہیں۔امریکہ والے ہوں یا غیر، دوسرے ملکوں کے ہوں۔اب وہاں حالات ایسے پلیٹ گئے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس یقین سے دن بدن میرا دل بھر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہنے