خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد 15 566 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء آشنا ہو جائیں ان کو پھر اس سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس جذبے سے آپ بھی مہمان نوازی کریں ۔ آنے والوں کی عزت اور وقار کا خیال رکھیں اور ان کے لئے ہر قربانی پیش کریں۔ ہر سے لیکن مہمانوں کے لئے بھی ایک نصیحت ہے۔ بسا اوقات مہمان ضرورت سے زیادہ اور سنت کی اجازت سے زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جہاں میز بانوں کو نصیحتیں فرمائی ہیں وہاں مہمانوں کے لئے بھی تو نصیحتیں فرمائی ہیں ۔ مثلاً تین دن سے زیادہ اپنا مہمانی کا حق نہ سمجھو۔ اس سے زیادہ اگر ہے تو وہ آپس کے تعلقات کے سلسلے ہیں ۔ مگر تین دن کی حد مقرر کر دینا یہ ایک بہت بڑا احسان ہے امت پر۔ ورنہ وہ لوگ جن کی سرشت میں یہ داخل کر دیا گیا ہو کہ تم نے ایثار کرنا ہے ان کا تو کچھ بھی نہ رہے۔ دن رات ایسے لوگ جو بے حسی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دوسروں کے گھروں پہ قبضے کر جائیں اور ان کے لئے نہ کوئی اپنا وقت چھوڑیں نہ اپنا ساز وسامان لینے دیں۔اس عرب کے مہمان والا قصہ ہو جائے جو ایک بدو کے گھر ٹھہرا تو چند دن کے اندر اندر اس کا سب کچھ چٹ کر گیا۔ نہ بھیڑیں رہیں نہ بکریاں اور اونٹ بھی ذبح ہونے لگے ۔ آخر ایک دن اس نے پوچھا کہ یا حضرت سر آنکھوں پر لیکن کیا ارادہ ہے۔ مطلب تھا کہ اس کو اگر یہ سفر پر جا رہا ہے تو سفر یاد کراؤں لیکن عربوں میں مہمان نوازی دیکھیں کتنی غیر معمولی تھی۔ اس مہمان نوازی کو محمد رسول اللہ ﷺ نے چپکایا ہے اور کیسے بلند تر ارفع مقامات تک پہنچا دیا۔ چنانچہ مہمان نے جواب دیا کہ مشکل یہ ہے کہ میرا معدہ خراب ہے، بھوک نہیں رہی اور سنا تھا کہ کوئی بہت بڑا حکیم ہے جو بھوک پیدا کرنے کا ماہر ہے اور میں اس کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں ۔ تب اس مہمان نواز نے کہا: و يا ضيفنا ان زرتنا لوجدتنا نحن الضيوف وانت رب المنزل کہ اے میرے معزز مہمان اب کہ اگر لوٹے تو میں تمہارا مہمان اور تم گھر کے مالک لے۔ تو یہ بھی مہمان نوازی کی قسمیں ہیں ۔ مگر میزبانوں کے علاوہ مہمانوں کی قسمیں بھی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے دیکھیں کس طرح اس کو محدود فر ما دیا۔ اب سنت کے حوالے سے مہمان مجبور ہو گیا ہے کہ تین دن تک حق سمجھے اور اس کے بعد کہے کہ مجھے اجازت دیں اور پھر وہ آثار میں بھی دیکھے کہ اجازت نہ دیتے ہوئے بھی کوئی میزبان تکلیف