خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد 15 565 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر:10) کے سردار تو خود محمد رسول اللہ اللہ تھے اور دوسری مثالیں جو میں پہلے بھی بار بار دے چکا ہوں دل تو چاہتا ہے کہ ہمیشہ دہرائی جائیں مگر وقت کی کمی کی وجہ سے میں نہیں پیش کر سکتا۔ان سے پتا چلتا ہے کہ آنحضور نے اپنے پاک نمونے کے ذریعے مہمان نوازی کا ایسا لطیف جذبہ صحابہ میں سرایت کر دیا کہ وہ انبیاء کی شان کو چھونے لگا۔آسمان سے خدا کی تحسین کی نگاہیں اس پر پڑنے لگیں اور وحی کے ذریعے محمد رسول اللہ ﷺ کو مطلع فرماتا ہے۔یہ وہ مرتبہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بے شمار درود ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں پہلے اپنی ذات میں زندہ کیا پھر ہم میں زندہ کر دیا۔جتنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احسان پر آپ کے لئے دعائیں کی جائیں کم ہوں گی۔دیکھو چودہ سو سال پہلے کے واقعات مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تیرہ صدیاں گزر چکی تھیں۔کئی تاریک صدیاں ان کے درمیان حائل ہو چکی تھیں۔حضرت مسیح موعود نے ان میں سے صلى الله ایک ایک کو پکڑا اور آنحضور ﷺ اپنے محبوب آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ایک روایت کو زندہ کیا ہے اور پھر اپنے صحابہ اپنے غلاموں میں اس جذبے کو کس شان کے ساتھ جاری فرما دیا۔سو سال سے زائد ہو گئے لیکن یہ جذبہ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔یہ نیکی کا حسن ہے، یہ زندگی کی علامت ہے۔زندگی ہمیشہ بڑھا کرتی ہے اور وقت کے گزرنے سے کم نہیں ہو جایا کرتی۔یعنی وہ لوگ جو زندہ ہوں مر بھی جائیں تو وہ نشو ونما کے ذریعے اپنے پیچھے اپنی مثالیں چھوڑ جایا کرتے ہیں۔اس لئے زندگی کی صفت ہے کہ وہ بڑھتی ہے اور جب تک خدا تعالیٰ نے اس کے بڑھنے کے دائرے مقررفرمائے ہیں وہ نشو و نما پاتی چلی جاتی ہے اور پھر جب اس دائرے کو پہنچتی ہے تو اگلی نسل میں اس کی زندگی کی نشو نما اسی طرح پھولنے پھلنے لگتی ہے، اسی طرح رونما ہونے لگتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک زندگی آج دیکھو کروڑ زندگیوں میں بدل چکی ہے۔آپ کی مہمان نوازی کا ہر لطیف جذ بہ احمدیوں کے دلوں میں کیسی لطافتیں اور رس گھول رہا ہے اور جو مہمان نوازی کی لذت۔