خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد 15 547 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء ہے۔تب ہی صاحب علم لوگ دنیا کی لذتوں کے محتاج ہی نہیں رہتے۔ایسے سائنسدان ہیں جو صبح پوپھوٹنے سے پہلے اپنی لیبارٹریز میں پہنچتے ہیں اور رات بارہ کا گھنٹہ وہ اپنی لیبارٹریز میں سنتے ہیں اور ان کے ذکر محفوظ ہیں۔ان کو سوائے اس علم کے جس کی ان کو جستجو ، دل میں ایک لگن کے طور پر لگ گئی کسی چیز میں دلچسپی نہیں رہتی۔نیوٹن کا بھی یہی حال تھا، دوسرے بڑے بڑے سائنسدان جنہوں نے ایجادات کی ہیں اور ہمیشہ کے لئے علم کی دنیا میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا ، ان مٹ حروف سے لکھا گیا ان کا مطالعہ کریں ان کو کوئی مجبوری نہیں تھی کہ وہ اتنا وقت اپنے خاندان سے کٹ کر اپنے کاموں میں لگائیں۔مجبوری صرف یہ تھی کہ علم میں ایک نشہ ہے۔علم میں ایک ایسی لذت ہے جس سے انسان کے اندر وسعتیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ جوانا کا ایک مطالبہ ہے کہ میں پھیلوں علم اسے عطا کرتا ہے اور اعلیٰ رنگ میں عطا کرتا ہے۔ایک انا کا مطالبہ ہے کہ میں پھیلوں ، وہ سیاست کے ذریعے پورا ہوتا ہے ، خدا کے بندوں پر حکومت کے ذریعے پورا ہوتا ہے اور اکثر اس صورت میں ظلم کرتا ہے انسان، اکثر حقوق تلفی کرتا ہے اور سیاست کے ذریعے جو اپنی قوت اور اپنی انا کو پھیلانے کا مضمون ہے یہ نقصانات سے خالی نہیں ہے بلکہ اکثر اس کے نقصانات اس کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں اور علم ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی نقص نہیں ہے۔تب ہی آنحضور ﷺ نے سیاسی رسوخ کے ذریعے اپنی شخصیت بڑھانے کا کہیں ذکر نہیں فرمایا لیکن علم کے متعلق فرمایا کہ علم حاصل کرو خواہ چین بھی جانا پڑے۔اس زمانے میں چین عرب سے بعید ترین جگہ تھی ، اس سے زیادہ بعد کا تصور نہیں باندھا جاسکتا تھا۔فرمایا چین کی مسافت بھی طے کرنی پڑے تو وہاں بھی جاؤ اور علم سیکھو۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ علم میں اپنی ذات میں ایک ایسی کشش ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی شخصیت پھیلتی ہے اور اس کا فائدہ لوگوں کو پہنچتا ہے ، نقصان کوئی نہیں اور اگر علم کی لذت دل میں جاگزیں ہو جائے تو اس سے کردار کی عظمت بھی پیدا ہوتی ہے۔صاحب علم میں ازخود ایک کردار کی عظمت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔وہ اپنی ذات میں غنی بنتا چلا جاتا ہے یعنی لوگوں کا ہمدرد بھی ہو تو لوگوں کی ستائش سے بالا ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کو پھر اس کی پرواہ نہیں رہتی کہ کوئی دیکھتا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا۔کسی کو میں اچھا لگ رہا ہوں یا بد لگ رہا ہوں تو علم کا نشہ ہے اس میں وہ اپنی مصروف زندگی کے وقت گزار دیتا ہے۔تو MTA علم کی طاقت سے دنیا کے دلوں پر قبضہ کرے گا اور صلى الله