خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد 15 522 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء مرکزی وزراء بھی ایسے ہیں اور جو ایک صوبہ کے وزیر اعلیٰ بنے ان کا بھی یہی حال ہے۔جب میرا خطاب ختم ہوا تو مجھے اٹھ کر انہوں نے کہا کہ دیکھیں آپ نے جو باتیں کہی ہیں میرے دل پر نقش ہوگئی ہیں اور آئندہ ہم اس پر عمل کریں گے اور واقعہ پھر انہوں نے جو پروگرام بنایا اس میں انہوں نے اسی طرح اُس وعدے کو پورا کیا اور اس لئے کہ ان کے حق میں تھا۔اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اچھی بات جہاں سے ملے اسے قبول کرنا انسان کی بڑائی کے خلاف نہیں بلکہ بڑائی کی نشانی ہے اور یہی وہ مضمون ہے جسے آنحضرت ﷺ نے مومن کو سکھایا کہ الحكمة ضالة المؤمن " (سنن ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب الحكمة) کہ حکمت کی بات تو مومن کی گمشدہ اونٹنی ہے جہاں بھی ملے اپنی سمجھ کے لے لے۔اوپرا پن محسوس نہ کرے کہ غیر سے میں نے حکمت سیکھی تو گویا میں ذلیل ہو جاؤں گا۔جس کی اپنی چیز گی ہوئی ملے وہ اس کو حاصل کرنے سے ذلیل تو نہیں ہوا کرتا۔پس حکمت تمام بنی نوع انسان میں سانجھی ہے اور خصوصیت سے مومنوں کا خاصہ ہے کہ وہ پر حکمت باتیں کریں اور پر حکمت باتوں کو اپنا ئیں۔پس اس حوالے سے میری امریکہ کو یہ نصیحت ہے کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ترقی ہے لیکن اب ایسے پروگرام بنا ئیں کہ جب اہل امریکہ سے آپ لوگوں کے ذاتی روابط سنجیدگی سے اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھیں یہاں تک کہ وہ آپ کا اثر قبول کرنے لگیں اور جب تک ہم امریکہ پر اثر انداز نہیں ہوتے تمام بنی نوع انسان پر اثر انداز ہونا بہت مشکل کام ہے۔اس دفعہ جب کینیڈا کو میں نے بعض باتیں سمجھا ئیں تو ان کو یہی کہا تھا کہ آپ اگر ان باتوں پر عمل کریں تو تمام دنیا کی سیاست کے لئے ایک اچھی مثال قائم ہوگی مگر دوسرے سیاست دان ممالک ضروری نہیں ہے کہ کینیڈا کی پیروی کریں لیکن امریکہ اس پہلو سے ایک فوقیت رکھتا ہے اور بھاری امکان ہے کہ جو لوگ امریکہ سے متاثر ہیں اور بڑی بڑی حکومتیں امریکہ سے متاثر ہیں اگر یہاں کے سیاست دان سنور جائیں تو وہ بھی اپنے انداز تبدیل کر لیں گے۔وہ تو ایسے عاشق ہیں امریکہ کے کہ اس کی ہر برائی کو قبول کرنے پر بھی تیار ہیں۔اگر خوبیاں بھی پیدا ہو جائیں تو کیوں ان خوبیوں کو نہیں اپنا ئیں گے۔امریکہ کے جلسے کی حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے حیرت انگیز طور پر خوشکن ثابت