خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد 15 521 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء ہیں۔سردست مختصراً میں اس سال کے دو سالانہ جلسوں پر تبصرہ کرتا ہوں۔ایک کینیڈا کا اور ایک جماعت یونائیٹڈ سٹیٹس کا۔کینیڈا کا جلسہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے بہت کامیاب رہا۔انتظامات میں کچھ نقائص جو پیدا ہوتے رہے اس میں بعض مجبوریاں بھی در پیش تھیں مگر جہاں تک کارکنوں کا تعلق ہے بہت ہی اخلاص سے انہوں نے کام کئے ہیں۔ایک بھی واقعہ کسی بدمزگی کا نہیں آیا اور ہر ایک نے اطاعت کو درجہ کمال تک پہنچایا ہے۔اس پہلو سے کینیڈا کا جلسہ خاص طور پر طبیعتوں پر اثر انداز تھا۔دوسرا پہلو جو کینیڈا کا خصوصی ہے جس میں کینیڈا ہمیشہ ہی امریکہ سے آگے بڑھا ہے وہ ایسے غیروں سے روابط ہیں جن پر وہ سارا سال نیک اثر ڈالتے ہیں اور جب وہ ہمارے جلسوں میں شریک ہونے کے لئے آتے ہیں تو پہلے ہی دل ان کے جماعت کی طرف مائل ہوئے ہوتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں جلسے میں شامل ہو کر ان کے اندر بڑی تیزی سے پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر ہمیشہ اپنے تعلق کو نبھاتے ہیں۔اس پہلو سے امریکہ کے جلسے میں اگر چہ غیر بھی آئے ،متاثر بھی ہوئے لیکن ان کی بڑی تعداد وہ تھی جن سے تمام سال تعلق نہیں رکھا گیا بلکہ ان میں ایک اجنبیت سی تھی اور شاید یہ امریکہ کے مزاج کی بات ہے کہ دوستی جلدی کر بھی لیتے ہیں اور جلدی بھلا بھی دیتے ہیں۔مگر وہ جو ایک مستقل تعلق کی لہریں ہیں وہ ان کے دلوں سے نکلتی ہوئی محسوس نہیں ہوئیں۔جبکہ کینیڈا میں غیر معمولی انسانی جذبے کے ساتھ ان کے دلوں سے لہریں نکلتی ہیں جو دلوں کو گرماتی ہیں اور ان کو میں نے اس پہلو سے مبارک باد بھی دی ہے کہ آپ نے جو نیکی کی باتیں جب بھی سنی ہیں بڑی غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ ان پر لبیک کہا ہے اور باقی ممالک میں کم ہیں جن کے متعلق میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کو نیک مشورے دیئے جائیں تو وہ واقعہ سنجیدگی سے ان کا جواب دیں۔اس پہلو سے ان کو ایک فوقیت حاصل ہے کہ ان کے سیاست دانوں میں انکسار پایا جاتا ہے کوئی رعونت میں نے نہیں دیکھی۔جب بھی اور بار ہا ایسا ہوا ہے جب بھی ان کو کوئی ایسا مشورہ دیا جو ان کے لئے اور انسانیت کے لئے مفید ہے تو بڑھ چڑھ کر انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہاں ہم اس بات کو نوٹ کر رہے ہیں اور اس پر عمل کریں گے اور بعد میں ان کی تقاریر سے اور جو پروگرام انہوں نے اپنی قوم کے لئے تجویز کئے ان سے صاف کھل جاتا تھا کہ محض منہ کی باتیں نہیں تھیں دل کے جذبے سے وہ ایسا کہا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ان میں