خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد 15 508 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء یعنی بظاہر دیکھنے میں متضاد دکھائی دیتا ہے۔ پہلے تو یہ صفت بیان فرمائی کہ تو ایسے لبادے میں ملبوس ہے جس پر کوئی بداثر بیرونی اثر کا پڑ ہی نہیں سکتا بلکہ وہ تیرے بدن اور اندرونے کو کلیتہ غیر اللہ کے اثر سے محفوظ رکھ رہا ہے۔ اب وَ ثِيَابَكَ فَطَر سے کیا مراد ہے پھر ۔ ثیاب کا ثیاب کا ایک معنی ہے ساتھ اور اسی پہلو سے مرد کو عورت کا لباس اور عورت کو مرد کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا تیرا پاک ہونا اور تیری پاکیزگی کی حفاظت اور ضمانت ہونا کافی نہیں ہے۔ تجھے اس لئے قائم نہیں فرمایا گیا کہ تو محض اپنے بدن کی حفاظت اور صلى الله پاکیزگی کا خیال کرے۔ تجھ پر یہ فریضہ ہے کہ اپنے اردگرد اپنے ماحول کو پاک اور صاف کرتا رہ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ اور شرک اور ناپاکی کو کلیتہ چھوڑ دے۔ اب یہ بھی ایک عجیب مضمون صلى الله ہے کہ خدا تعالی آنحضرت ﷺ کو فرما رہا ہے کہ رجز کو پوری طرح چھوڑ دے حالانکہ رجز تو آپ کے قریب تک نہیں پھٹکا تھا۔ تمام موحد انبیاء میں سب سے بلند مرتبہ آنحضرت ﷺ کا تھا۔ تو حید کی خاطر تو آپ نے سب کچھ لٹا دیا ۔ تو خدا کی نصیحت کیا معنی رکھتی ہے کہ شرک کو چھوڑ دے ۔ اس کا حوالہ شیاب“ کی طرف ہے اور چھوڑ دے کا معنیٰ ہجرت سے تعلق رکھتا ہے جو قرآن کریم میں بھی بیان ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی روشنی ڈالی ۔ فرمایا وہ کپڑے جن کو تو نے پاک کرنا ہے اگر وہ شرک سے آلودہ ہو گئے ہوں یعنی وہ لوگ جو تیرے اردگرد رہتے ہیں اگر ان میں تو شرک کے آثار دیکھے تو ان سے ہجرت کر جا۔ ان کو قریب تک نہ پھٹکنے دے۔ ہجرت کرنے کا یہ مضمون ہے۔ تیرے ماحول میں محض موحد بندے رہنے چاہئیں ۔ ہر قسم کے مشرکوں سے اپنے آپ کو پاک کرلے ۔ مراد یہ نہیں کہ آپ کے اندر شرک ہے جس سے نعوذ باللہ من ذلک علیحدگی کا حکم دیا جارہا ہے۔ آپ کے ارد گرد بسنے والوں میں اگر کوئی شرک کے آثار ہوں تو ان سے علیحدہ ہو جا۔ صلى الله اور یہ وہ مضمون ہے جس کا سمجھنا امارت کے تعلق میں بہت ہی لازم ہے، بہت ہی ضروری ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کو امارت کے اختیارات سونپے گئے ہوں اس کے اردگر دالا زماً ایسے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں جو اس کی بڑائی کے گیت گانے لگتے ہیں ۔ جو اسے بڑا بتاتے ہیں اور اس پہلو سے اس کی امارت میں شریک ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جو ایک طبعی انسانی فطرتی کمزوری ہے جس کی طرف خدا تعالیٰ نے یہاں توجہ دلائی ہے ورنہ دنیا کے بادشاہ اور صاحب امر لوگ تو ہمیشہ ان لوگوں کے گھیرے میں آجایا کرتے ہیں ۔ جو ان کی بڑائی بیان کرے وہ اس کو بڑا سمجھتے ہیں اس کو اور زیادہ