خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد 15 507 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء ہے کھڑے ہونے والے قُمْ فَانْذِرُ (المدثر: 3) کھڑا ہوجا اور ڈراوَ رَبَّكَ فَكَبِّرُ (المدثر :4) اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر وَثِيَابَكَ فَطَرُ (المدر:5) اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔یہاں جوامیر کے فرائض ہیں ان میں ایک بہت اہم فریضہ اپنے ساتھیوں کا پاک کرنے کا فریضہ ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔فرمایا وَ ثِيَابَكَ فَطَبَر جہاں تک شفقت اور رحمت کا تعلق ہے یہ کوئی نفسانی کمزوری کی شفقت اور رحمت نہیں ہے۔پس اگر کوئی امیر یا کوئی شخص کسی معنوں میں بھی مامور بنایا گیا ہو وہ سمجھے کہ اس کے لئے یہی کافی ہے کہ لوگوں کے لئے مہربان ہو تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔بعض دفعہ دل کی کمزوری کی مہربانی فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے جو مہربانی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی مہربانی تھی اس مہربانی کے بہت گہرے فرائض تھے اور وہ مہربانی محض پیار کی بات تک محدود نہیں تھی بلکہ بنی نوع انسان کے دنیا اور آخرت کے عظیم فوائد تک ممتد تھی۔اس پہلو سے آپ کے فرائض کو بطور مطاع کے یوں بیان فرمایا گیا۔قُمْ فَانْذِرُ۔اوّل تو المدثر کا معنی کپڑے میں لیٹے ہوئے یا وہ جس نے اپنے اوپر ایک اوپر کا کوئی لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔یہ سمجھنے والی بات ہے۔مراد یہ ہے کہ جیسے بارانی کوٹ سے انسان بارش اور موسم کے بد اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کی تعریف فرمارہاہے کہ تو ہر قسم کے بداثر سے بالکل پاک اور محفوظ ہے۔کوئی دنیا کا بداثر تیری ذات میں سرایت نہیں کر سکتا بلکہ تیرے کپڑوں تک جو تیرے بدن سے چمٹے ہوئے ہیں وہ سرایت کرنے کی توفیق نہیں پائے گا۔تو ہر وقت غیر اللہ کے اثرات سے محفوظ ہے اور خدا کی حفاظت میں لپٹا ہوا ہے۔قُم فَانْذِر اس حالت میں کھڑا ہو اور لوگوں کو ڈرا وَ رَبَّكَ فكتر اور محض اپنے رب کی بڑائی بیان کر کسی دنیا کے ملاحظے کی خاطر یا دنیا کو خوش کرنے کی خاطر غیر اللہ کی تعریف کا تو حضور اکر مہینے کے لئے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔پس جہاں یہ حکم دیا گیا ہے اس سے یہ صلى الله مراد نہیں کہ پہلے رسول اللہ کے اس فریضے سے غافل تھے مراد یہ ہے کہ اپنے رب کی تکبیر کرتا چلا جا۔اس کا ڈرانے سے یہ تعلق ہے کہ جب تو ڈرائے گا تو لوگ تجھ پر ، تیرے خلاف انتقامی کروائی کر سکتے ہیں لوگ تجھ سے دور بھاگ سکتے ہیں۔مگر اس کے نتیجہ میں رب کی تکبیر کرنا اس کی بڑائی بیان کرنا تیرا ایک جاری فریضہ رہنا چاہئے۔تجھے ذرا بھی متاثر اس بات سے نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ کیا اثر لیتے ہیں۔اثر قبول کرتے ہیں یا رد عمل دکھاتے ہیں۔وَثِيَابَكَ فَطَرْ اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔اب سوال یہ ہے کہ جو پہلی آیت کا مضمون ہے وہ اس آیت سے متضاد کیوں ہو گیا